حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 86 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 86

حیات احمد ۸۶ جلد اول حصہ اوّل فطرت محمدیہ کا عکس بناوٹ اور تکلف سے کوئی بات انسان کہے تو وہ مخفی نہیں رہ سکتی اور دلی جذبات اور کیفیات کا اندازہ انسان کے بے تکلف کلام سے ضرور ہو جاتا ہے حضرت مرزا صاحب کو ڈلہوزی جاتے ہوئے سبزہ زار پہاڑیوں اور بہتے ہوئے پانیوں نے جس طرف متوجہ کیا ہے وہ ان کی فطرت کا ایک صحیح نقشہ ہے اور ان کی معصوم اور پاکیزہ زندگی کی ایک دلیل۔میں اس پر وسعت کے ساتھ کلام نہیں کروں گا بلکہ ناظرین کے لئے اسے چھوڑ دیتا ہوں کہ :۔لب جو ہو بادہ ناب ہو کہنے والی زبانوں اور قلبوں سے کس قدر بلندی پر یہ انسان ہے۔ان پاکیزہ جملوں کو سن کر ایک شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدا پرست فطرت کا مطالعہ کر چکا ہے فوراً اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آئینہ احمد میں فطرت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس ہے میں اس موقع پر ان الفاظ کو نقل کئے بدوں نہیں رہ سکتا جو ایک عیسائی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھے ہیں۔چنانچہ ڈاکٹر اے سپر نگر صاحب اپنی لائف آف محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں لکھتا ہے کہ جس کے خیال میں ہمیشہ خدا کا تصور رہتا تھا اور جس کو نکلتے ہوئے آفتاب اور برستے ہوئے پانی اور اُگتی ہوئی روئیدگی میں خدا ہی کا ید قدرت نظر آتا تھا اور غرش رعد و آواز آب اور طیور کے نغمہ حمد الہی میں خدا ہی کی آواز سنائی دیتی تھی اور سنسان جنگلوں اور پرانے شہروں کے کھنڈروں میں خدا ہی کے قہر کے آثار دکھائی دیتے تھے۔“ مقدمات میں تعلق باللہ مقدمات کا یہ سلسلہ بڑا لمبا تھا اور چیف کورٹ تک بعض مقدمات کی پیروی آپ کو کرنی پڑی۔میں اس سیرت کے پڑھنے والوں کو حضرت مرزا صاحب کی زندگی کے اس حصہ سے واقف کرتے ہوئے جس امر پر متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ آپ کا تعلق باللہ ہے جن لوگوں کو