حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 83
حیات احمد ۸۳ جلد اوّل حصہ اوّل فطرت دی گئی تھی اُسے اس قسم کے کاموں سے مناسبت نہ تھی۔ایسے امور اور دنیاوی دھندے آپ کی شان اور طبیعت کے میلان سے دور تھے۔اس لئے بالطبع آپ اس طریق سے بیزار تھے اور ان میں مبتلا ہونا پسند نہ کرتے تھے لیکن محض حضرت والد صاحب قبلہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ایک کامل نمونہ ہونے کے مقدمات وغیرہ کی پیروی میں جہاں کہیں وہ فرماتے چلے جاتے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ انبیاء و مامورین کا گروہ پرلے درجہ کی سلامتی اور اعتدال سے پُر فطرت لے کر دنیا میں آتا ہے۔اور وہ تمام اخلاق اور نیکیوں کے لئے ایک نمونہ ہوتے ہیں اسی بناء پر مرزا صاحب نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ ثواب اطاعت والد صاحب حاصل کرنے کے لئے اپنے تئیں ان خدمات میں لگا دیا اور ان کے لئے دعا میں بھی لگے رہتے تھے۔وہ کام کیا تھا جو آ۔کے سپرد کیا گیا اس کے متعلق خود حضرت مرزا صاحب کا اپنا بیان نہایت لذیذ ہے۔فرماتے ہیں:۔”میرے والد صاحب اپنے آباء و اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔انہوں نے انہیں مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا۔ان کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پر تھی مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیا داروں کی طرح مجھے رو خلق بنا دیں اور میری طبیعت اس طریق سے سخت بیزار تھی۔ایک مرتبہ ایک صاحب کمشنر نے قادیان آنا چاہا میرے والد صاحب نے بار بار مجھ کو کہا کہ ان کی پیشوائی کے لئے دو تین کوس جانا چاہئے مگر میری طبیعت نے نہایت کراہت کی اور میں بیمار بھی تھا اس لئے نہ جاسکا پس یہ امر بھی اُن کی ناراضگی کا موجب ہوا۔اور وہ چاہتے تھے کہ میں دنیوی امور میں ہر دم غرق رہوں جو مجھ سے نہیں ہوسکتا تھا مگر تا ہم میں خیال کرتا ہوں