حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 82 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 82

حیات احمد ۸۲ جلد اوّل حصہ اوّل ان کے مکتب کے بعض طالب علم اپنے استاد سید گل علی شاہ صاحب سے کوئی مذاق بھی کر بیٹھتے۔ان کو خہ پینے کی بہت عادت تھی اور اسی سلسلہ میں بعض شوخ طالب علم مذاق کر لیتے۔مرزا صاحب ہمیشہ ان کا ادب و احترام کرتے اور ایسی شرارتوں سے بیزار اور الگ رہتے۔خانہ داری کا بوجھ حضرت مرزا صاحب ابھی تعلیم ہی پاتے تھے کہ آپ کے والد ماجد نے آپ کی شادی کر دی نہ صرف اس زمانہ میں بلکہ اس وقت بھی متمول اور علو خاندان کا یہ ایک نشان سمجھا جاتا ہے کہ بچے چھوٹی عمر میں بیا ہے جاویں۔مرزا صاحب کا خاندان پنجاب بھر میں ایک متمیز خاندان تھا اس لئے چودہ پندرہ برس کی عمر میں ہی آپ کی شادی ہو گئی۔اور عمر کے سولہویں سال خدا تعالیٰ نے ایک بیٹا عطا فرمایا یہ بیٹا وہی ہے جو آج خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب کے نام سے مشہور ہے۔خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب حضرت مرزا صاحب کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔انہوں نے ادبی دنیا میں خاص شہرت حاصل کی اور گورنمنٹ کے ممتاز اور مسلم مد بر عہدہ داران میں سے وہ ایک ہیں۔پنجاب اور ہندوستان کا کوئی ادبی رسالہ یا مشہور اخبار نہیں جو ان کے قلم کا رہین منت نہ ہو۔زمینداروں کی اصلاح کے متعلق ان کی راؤں اور مشورتوں کو خاص عزت حاصل ہے وہ آج کل سونی پت حصہ ضلع میں سب ڈویژنل افیسر ہیں جہاں وہ ریاست بہاولپور کی ریو نیومنسٹری سے اپنی میعاد پوری کر کے گئے ہیں۔پھر دوسرا بیٹا فضل احمد نام پیدا ہوا جو عرصہ ہوالا ولد فوت ہو گیا۔مرزا صاحب والد صاحب کے دنیوی کاروبار میں لگائے گئے حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم چاہتے تھے کہ مرزا صاحب کو تمام دنیاوی امور سے جو انہیں اپنی زمیندارانہ حیثیت میں پیش آتے تھے آگاہ کر دیں تا کہ کسی طرح وہ گم کردہ شان و شوکت اور ریاست اپنے خاندان کی حاصل کریں مگر مرزا صاحب اس قسم کے کاموں کے لئے بنائے نہ گئے تھے کیونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کے سر پر دنیا کی اصلاح کا ایک بار عظیم رکھنا تھا اس لئے آپ کو جو