حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 81 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 81

حیات احمد ΔΙ جلد اوّل حصہ اول مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں اس دنیا میں نہ تھا۔میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے۔اور نیز ان کا یہ بھی 66 مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ ہو کر ان کے ہموم و عموم میں شریک ہو جاؤں۔“ کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۸۰ تا ۱۸۲ حاشیه ) حضرت مرزا صاحب کی تعلیم کے لئے تین استاد منتخب ہوئے۔جن میں سے پہلا فضل الہی نام قادیان کا باشندہ اور حنفی المذہب تھا۔دوسرا مولوی فضل احمد صاحب فیروز والہ ضلع گوجرانوالہ کا باشندہ تھا اور اہلحدیث تھا۔مولوی فضل احمد صاحب مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کے والد ماجد تھے مولوی مبارک علی صاحب نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت کی اور حضرت مرزا صاحب چاہتے تھے کہ وہ قادیان میں رہ کر روحانی ترقی کریں اور ہجرت کر کے سیالکوٹ سے آ جاویں مگر انہیں یہ موقع نہ ملا۔اور آخر قادیان سے ان کو اتنا بعد ہوتا گیا کہ ان کی آمد ورفت بہت ہی کم ہوگئی۔سید مولوی گل علی شاہ صاحب بٹالہ کے رہنے والے شیعہ مذہب کے معلم تھے۔قادیان میں جب مولوی گل علی شاہ صاحب پڑھاتے تھے تو بعض اور بچے اس خاندان کے بھی ان کے پاس پڑھتے تھے۔اس وقت کے حالات دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ مرزا صاحب مطالعہ میں ہی مصروف رہتے۔اور بچوں کے ساتھ کھیلنے کودنے کا آپ کو کوئی شوق نہ تھا۔ان ایام میں عام طور پر گشتی ، کبڈی اور نگدر اور موگری اٹھانے کے کھیل مروج تھے۔اور اس کے ساتھ ساتھ بٹیر بازی۔مرغ بازی بھی کثرت سے تھی۔مگر مرزا صاحب بالطبع ان کھیلوں سے متنفر۔اور کوئی شخص بیان نہیں کرتا کہ اس نے کبھی ان کو لڑکوں میں کھیلتے ہوئے یا کسی کے ساتھ لڑتے جھگڑتے کبھی دیکھا ہو۔مرزا صاحب کی مرغوب خاطر اگر کوئی چیز تھی تو وہ مسجد اور قرآن شریف، مسجد ہی میں عموماً ٹہلتے رہتے اور ٹہلنے کا اس قدر شوق تھا اور محو ہو کر اتنا ٹہلتے کہ جس زمین پر ٹہلتے وہ دب دب کر باقی زمین سے متمیز ہو جاتی۔