حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 80
حیات احمد ۸۰ جلد اوّل حصہ اوّل مرزا صاحب کی تعلیم انگریزوں کی عملداری کے اوائل میں مدارس کا سلسلہ ابھی جاری نہ ہوا تھا اور تعلیم کے لئے عام دستور یہی تھا کہ بڑے بڑے رئیس اور صاحب استطاعت لوگ اپنے گھروں پر استاد بطور اتالیق رکھ لیتے تھے۔اور خاندانی لوگوں میں تو یہ رواج بہت مدت تک جاری رہا۔اسی طرح پر مرزا صاحب کی تعلیم کے لئے انتظام کیا گیا۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب کی تعلیم کے لئے قادیان ہی کے ایک فارسی خوان استاد کو مقرر کیا گیا۔حضرت مرزا صاحب نے نہایت صاف اور سادے الفاظ میں اپنی تعلیم کا خود تذکرہ کیا ہے میں اسے نہایت مؤثر اور بابرکت پاتا ہوں۔اس لئے انہیں الفاظ میں دو ہرا دیتا ہوں۔چنانچہ لکھا ہے کہ :۔” جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں۔اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا۔اور جب میری عمر قریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خوان مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے۔اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو اُن سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔اور ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا۔اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والدصاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔ان دنوں میں