حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 71
حیات احمد جلد اوّل حصہ اول بڑے بیٹے خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب دنیوی رنگ میں جانشین ہوئے جواب گورنمنٹ پنجاب کے ایک ممتاز عہدہ دار ہیں۔غالباً یہ بیان ناتمام رہے گا۔اگر بعض ان واقعات کا تذکرہ نہ کروں جو بطور نشانات مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی زندگی میں ظاہر ہوئے۔حضرت مرزا غلام مرتضی کی وفات جون میں ہوئی تھی۔انہوں نے مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کو اپنے شرکاء کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے وصیت کی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ شرارے ہیں میں نے ان کو خاکستر سے دبایا ہوا تھا اڑانا نہیں۔مگران کی وفات کے بعد واقعات نے صورت بدل لی۔مرزا امام الدین صاحب نے جوان کے برادر زادہ تھے بعض خاندانی وراثت کے مقدمات کا سلسلہ چھیڑ دیا۔اور اس سلسلہ میں بعض شرکاء کی طرف سے قادیان کی ملکیت کا ایک حصہ مرزا اعظم بیگ صاحب رئیس لاہور کے ہاتھ فروخت کرا دیا۔اس جائیداد کے متعلق مقدمات کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔حضرت مرزا صاحب نے اپنے بھائی صاحب اور دوسرے رشتہ داروں کو اس مقدمہ کے انجام سے قبل از وقت خبر دی اور ان کو منع کیا مگر عام دنیا داروں کے رنگ میں یہ مقدمہ بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔وہ نہ رُکے اور آخر انجام وہی ہوا۔حضرت مرزا صاحب نے اس مقدمہ کے متعلق جو الہام ہوا تھا اور اس کے متعلق جو کیفیت گزری ہے وہ خود تحریر فرما دی ہے چنانچہ فرماتے ہیں:۔کہ بعض غیر قابض جدی شرکاء نے جو قادیان کی ملکیت میں ہمارے شریک تھے دخل یا بی کا دعویٰ عدالت گورداسپور میں کیا۔تب میں نے دعا کی وہ اپنے مقدمہ میں ناکام رہیں۔اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا۔اُجَيْبُ كُلَّ دُعَاءِ كَ إِلَّا فِي شُرَكَاءِ كَ یعنی میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا مگر شر کا ء کے بارہ میں نہیں۔تب مجھے معلوم ہوا کہ اسی عدالت میں یا انجام کا رکسی اور عدالت میں مدعی فتح پا جائیں گے۔یہ الہام اس قدر زور سے ہوا تھا کہ میں نے سمجھا کہ شاید قریب محلہ کے لوگوں تک آواز پہنچی ہوگی اور میں جناب الہی کے اس منشاء سے مطلع ہو کر گھر میں گیا