حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 70
حیات احمد جلد اوّل حصہ اول إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔اور یہ اُن سب الہاموں سے پہلا الہام اور پہلی پیشگوئی تھی جو خدا نے مجھ پر ظاہر کی دو پہر کے وقت خدا نے مجھے اس کی اطلاع دی کہ ایسا ہونے والا ہے اور غروب کے بعد یہ خبر پوری ہوگئی۔اور مجھے فخر کی جگہ ہے اور میں اس بات کو فراموش نہیں کروں گا کہ میرے والد صاحب کی وفات کے وقت خدا تعالیٰ نے میری عزا پرسی کی۔اور میرے والد کی وفات کی قسم کھائی جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔جن لوگوں میں شیطانی روح جوش زن ہے وہ تعجب کریں گے کہ ایسا کیونکر ہوسکتا ہے کہ خدا کسی کو اس قدر عظمت دے کہ اس کے والد کی وفات کو ایک عظیم الشان صدمہ قرار دے کر اُس کی قسم کھاوے۔مگر میں پھر دوبارہ خدائے عزوجل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حق ہے اور وہ خدا ہی تھا جس نے عزا پُرسی کے طور پر مجھے خبر دی اور کہا کہ وَالسَّمَاءِ وَ الطَّارِق اور اسی کے موافق ظہور میں آیا۔فالحمد لله على ذالك۔( حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱۹٬۲۱۸) حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم کے بعد ان کے جانشین مرزا غلام قادر صاحب ہوئے جو نہایت قابل منشی اور مدبر تھے۔انہوں نے سرکار انگریزی کی غدر کے وقت اپنے والد صاحب کے حکم سے تریمو گھاٹ پر خود لڑ کر مدد کی۔اور بعد میں مختلف صیغہ جات پولیس نہر اور بالآخر محکمہ سول میں ملازمت کی۔اور اپنے فرائض کو ہمیشہ مستعدی اور دیانت کے ساتھ ادا کیا۔ان کی زندگی کے حالات پر مجھے اس وقت کچھ زیادہ نہیں لکھنا ہے۔بلکہ میں اسے کسی دوسرے وقت کے لئے چھوڑ دیتا ہوں۔ان کی زندگی بھی اپنے والد صاحب کی طرح اکثر ہموم و عموم کی زندگی تھی۔شرکاء نے ان کے ساتھ مختلف رنگ میں شرارتیں شروع کر دیں اور بعض قادیان کے محسن کش بھی اس فریق کے ساتھ جا ملے اور اس طرح پر اس خاندان کو مختلف رنگوں میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔مرزا غلام قادر صاحب بھی شاعرانہ مذاق رکھتے تھے اور محزون تخلص کرتے تھے۔ان کی وفات پر چونکہ وہ لا ولد تھے۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کے