حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 69 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 69

حیات احمد ۶۹ جلد اوّل حصہ اوّل وقت قریب ہے۔جس پر وہ لاہور سے قادیان پہنچے۔اور یہاں آکر انہیں اس حالت میں پایا کہ کوئی شخص طبی نکتہ نگاہ سے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ دوسرے دن فوت ہو جانے والے ہیں۔بلکہ وہ اصل بیماری درد گردہ سے صحت پاچکے تھے اور قوی تھے۔اور کچھ بھی آثار موت ظاہر نہ تھے اور کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک برس تک بھی وفات پا جائیں مگر جیسا کہ الہام الہی نے خبر دی تھی یہ واقعہ اُسی روز ہو گیا۔حضرت مرزا صاحب نے اس واقعہ کو اپنے نشانات صداقت میں نہایت جوش اور فخر کے ساتھ لکھا ہے اور میں اسے یہاں درج کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وو ” جب میرے والد صاحب خدا ان کو غریق رحمت کرے اپنی آخری عمر میں بیمار ہوئے تو جس روز ان کی وفات مقدر تھی۔دوپہر کے وقت مجھ کو الہام ہوا وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِق۔اور ساتھ ہی دل میں ڈالا گیا کہ یہ اُن کی وفات کی طرف اشارہ ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آفتاب کے غروب کے بعد پڑے گا۔اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندہ کو عزا پر سی تھی۔تب میں نے سمجھ لیا کہ میرے والد صاحب غروب آفتاب کے بعد فوت ہو جائیں گے اور کئی اور لوگوں کو اس الہام کی خبر دی گئی۔اور مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس پر جھوٹ بولنا ایک شیطان اور لعنتی کا کام ہے کہ ایسا ہی ظہور میں آیا اور اُس دن میرے والد صاحب کی اصل مرض جو درد گردہ تھی دور ہو چکی تھی صرف تھوڑی سی زحیر باقی تھی۔اور اپنی طاقت سے، بغیر کسی سہارے کے پاخانہ میں جاتے تھے۔جب سورج غروب ہوا اور وہ پاخانہ سے آ کر چار پائی پر بیٹھے تو بیٹھتے ہی جان کندن کا غرغرہ شروع ہوا۔اسی غرغرہ کی حالت میں انہوں نے مجھے کہا کہ دیکھا یہ کیا ہے اور پھر لیٹ گئے۔اور پہلے اس سے مجھے کبھی اس بات کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا کہ کوئی شخص غرغرہ کے وقت میں بول سکے اور غرغرہ کی حالت میں صفائی اور استقامت سے کلام کر سکے۔بعد اس کے عین اس وقت جبکہ آفتاب غروب ہوا۔وہ اس جہانِ فانی سے انتقال فرما گئے