حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 68 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 68

حیات احمد ۶۸ جلد اوّل حصہ اول انتقال ہوا۔مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے میں اس وقت لاہور میں تھا جب مجھے یہ خواب آیا تھا۔تب میں جلدی سے قادیان پہنچا اور انہیں مرض زجیر میں مبتلا پایا۔لیکن یہ امید ہرگز نہ تھی کہ وہ دوسرے دن میرے آنے سے فوت ہو جائیں گے کیونکہ مرض کی شدت کم ہو گئی تھی اور وہ بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے۔دوسرے دن شدت دو پہر کے وقت ہم سب عزیز ان کی خدمت میں حاضر تھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم ذرا آرام کر لو کیونکہ جون کا مہینہ تھا اور گرمی سخت پڑتی تھی۔میں آرام کے لئے ایک چوبارہ میں چلا گیا اور ایک نوکر پیر دبانے لگا کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہوا۔وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِق۔یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضاء وقد ر کا مبدء ہے۔اور قسم ہے اُس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا۔اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو جائے گا۔”سبحان اللہ کیا شان خداوند عظیم ہے کہ ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہوا فوت ہوا ہے اس کی وفات کو عزا پرسی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خدا کی عزا پرسی کیا معنی رکھتی ہے۔مگر یادر ہے کہ حضرت عزت جل شانہ جب کسی کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کا ہنسنا بھی جو حدیثوں میں آیا ہے ان ہی معنوں کے لحاظ سے ہے۔“ (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۹۱ تا ۱۹۴ حاشیه ) غرض حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی وفات کی خبر اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو دی تھی۔یعنی اولاً لا ہور میں بذریعہ رویا ظاہر کیا کہ انتقال کا