حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 63 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 63

حیات احمد ۶۳ جلد اول حصہ اوّل ڈرتا تھا۔بڑے آدمیوں میں چونکہ نخوت اور تکبر ہوتا ہے اس لئے اس کی اصلاح کی طرف ہمیشہ متوجہ رہتے۔علاج کے لئے جو لوگ آتے اُن میں سے بھی غرباء کی طرف پہلے توجہ کرتے۔اور اگر معمولی ملاقات کے لئے بڑے آدمی (جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے ) آتے۔تو ان کو اپنا حقہ نہیں دیتے تھے۔(حُقہ بہت پیا کرتے تھے ) ہاں اپنے معمولی ملازموں اور خادموں تک کو دے دیتے اور ان کے ساتھ نہایت شفقت اور خندہ پیشانی سے پیش آتے۔طبیعت میں مزاح تھا حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی طبیعت میں شریفانہ مزاح تھا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی فطرت کا ایک شریف حصہ ہے۔جو دوسری قوتوں کی طرح اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت بن جاتا ہے۔مگر جس طرح پر لوگ دوسری قوتوں کو بداخلاقی کی صورت میں تبدیل کر لیتے ہیں اور فلسفہ اخلاق سے واقف نہ ہونے کے باعث سمجھتے بھی نہیں کہ وہ کسی بداخلاقی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔اسی طرح مزاح کو بگاڑ کر ایسا مذاق اور ظرافت شروع ہو جاتی ہے جو نہایت ہی مذموم ہو۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب میں یہ قوت اسی رنگ میں تھی۔جس طرح ان کو خدا داد شرافت کے ساتھ شجاعت اور راستبازی اور جرات کے خصائل حمیدہ ملے تھے۔طبی تعلیم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک شخص حافظ روح اللہ صاحب باغبانپورہ ضلع لاہور میں تھے اُن سے حاصل کی تھی۔اور پھر دہلی میں شریف خانی خاندان سے استفادہ کیا تھا۔باوجود دنیا دار ہونے کے خدا پر بھروسہ اور امید وسیع تھی مرزا صاحب کے حالات پر یکجائی نظر کرنے سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ وہ دنیا داری کے دھندوں میں بہت منہمک ہو گئے تھے اور یہ بھی آپ کے حالات سے پایا جاتا تھا کہ آپ کو اس مصروفیت پر آخر میں بے حد تاسف تھا۔اور اگر اس کو نہایت سادگی کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ