حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 61 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 61

حیات احمد ۶۱ جلد اوّل حصہ اول مرزا غلام قادر صاحب ایک بات میں بحال ہو گئے اس کے لئے میں ایک واقعہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔مرزا غلام قادر صاحب محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر تھے اور ضلع گورداسپور میں نسبٹ (Nisbat) صاحب ڈپٹی کمشنر تھے۔ایک مرتبہ ڈپٹی کمشنر صاحب نے انہیں معطل کر دیا۔اور پھر جب وہ قادیان آیا اور حضرت مرزا صاحب سے ملاقات ہوئی تو خود نسبٹ صاحب نے کہا کہ میں نے غلام قادر کو معطل کر دیا ہے۔اس پر حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے جو جواب دیا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔اور نسبٹ صاحب نے جو اُس کی قدر کی وہ دنیا میں ہمیشہ واجب العزت رہے گی۔مرزا صاحب نے فرمایا۔اگر قصور ثابت ہے تو ایسی سخت سزا دینی چاہئے کہ آئندہ شریف زادے ایسا قصور نہ کریں۔ڈپٹی کمشنر نے یہ سن کر مسل میں لکھ دیا کہ در جس کا باپ ایسا ادب دینے والا ہو اُس کو سزا دینے کی ضرورت نہیں“ اُس زمانہ کے عالی خیال حکام کی یہ موقعہ شناسیاں تسخیر قلوب کے لئے جادو کا کام کرتی ہیں۔خود داری کا اظہار ایک مرتبہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے رابرٹ کسٹ صاحب سے جو کمشنر تھے ملاقات کی۔اُس نے اثناء گفتگو میں پوچھا کہ قادیان سے سری گوبند پور کتنی دور ہے؟ مرزا صاحب نے کہا کہ میں ہرکارہ نہیں ! سلام“ کمشنر صاحب نے محسوس کیا کہ مرزا صاحب کو یہ استفسار ناگوار گزرا ہے۔اس لئے کہا کہ آپ میری بات سے ناراض کیوں ہوئے؟ مرزا صاحب نے کہا کہ ہم آپ کے پاس اپنی باتیں کرنے آتے ہیں ادھر ادھر کی باتوں کے لئے نہیں آتے۔یہ میرا کام نہیں جو آپ مجھ سے پوچھتے ہیں۔رابرٹ کسٹ صاحب نے مرزا صاحب کی اخلاقی جرات اور اپنے مقام شناسی سے بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ مرزا صاحب کس پایہ اور عزت کے انسان ہیں۔