حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 54 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 54

حیات احمد ۵۴ جلد اوّل حصہ اوّل سے سرکار انگریزی کو دئے۔اور آپ کے بڑے صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت لڑ رہے تھے جبکہ افسر موصوف نے تریمو گھاٹ پر نمبر ۴۶ نیو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہ تیغ کیا۔جنرل نکلسن صاحب بہادر نے مرزا غلام قادر صاحب کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا تھا کہ:۔۱۸۵۷ء میں خاندان قادیان، ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا ہے۔“ غرض حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب اپنے زمانہ ء حیات میں حکومت کے پورے فرمانبردار اور وفادار دوست تھے۔گورنمنٹ نے ان کی خدمات کا ہمیشہ اعتراف کیا۔اور مرزا صاحب موصوف گورنمنٹ کے حکام اور عہدہ داروں کی نظر میں ایک موقر اور معتمد دوست سمجھے جاتے تھے۔دربار گورنری میں انہیں کرسی دی جاتی تھی۔اور ان کی تحریروں پر حرمت کے ساتھ غور کیا جاتا تھا۔حکام نے جو چٹھیات انہیں وقتا فوقتا لکھی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دلی جوش سے لکھی گئی ہیں۔جو بغیر ایک خاص خیر خواہ اور بچے وفادار کے کسی دوسرے کے لئے تحریر نہیں ہوسکتی ہیں۔اکثر صاحبان ڈپٹی کمشنر و کمشنر اپنے ایامِ دورہ میں اظہار محبت و مودت کے لئے مرزا صاحب کے مکان پر جا کر ملاقات کرتے تھے اور کبھی کبھی ایسا بھی اتفاق ہوا کہ مرزا صاحب اُن کی ملاقات کے لئے نکلے ہیں اور پالکی میں جا رہے ہیں۔سامنے سے عہدہ دار مذکور آ گیا اور اس نے ان کی عزت و مرتبہ کے لحاظ سے پسند نہیں کیا کہ مرزا صاحب پالکی سے اتریں۔وہ آپ ساتھ ساتھ باتیں کرتا ہوا مکان تک چلا گیا ہے۔ان کی اس عزت و اکرام کا پتہ ان خطوط سے بھی ملتا ہے جو آپ کی وفات پر ڈپٹی کمشنر سے لے کر کمشنر اور فنانشل کمشنر اور لیفٹینٹ گورنر بہا در تک نے آپ کی تعزیت میں لکھے۔میں اس حصہ مضمون کو نا تمام سمجھوں گا۔اگر ان چٹھیات میں سے بعض کو یہاں درج نہ کروں جو حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی خدمات اور وفاداری کے اعتراف میں سرکاری عمائد کی طرف سے آئی تھیں۔