حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 50
حیات احمد جلد اوّل حصہ اول مرزا صاحب نے اس فن کو نوع انسان کی بھلائی کا ایک ذریعہ ہمیشہ سمجھا اور اپنے عمل سے ثابت کیا۔ایک مرتبہ قادیان میں ہیضہ کی سخت وارداتیں شروع ہوئیں۔مرزا صاحب ان دنوں بٹالہ میں تھے۔جہاں آپ کی جائیداد غیر منقولہ از قسم مکانات و دوکانات تھی۔ہیضہ کی وارد تیں ابھی چوہڑوں میں ہورہی تھیں۔وہاں جب آپ کو اطلاع ملی تو آپ فوراً قادیان آئے اور چوہڑوں کے گھروں کے پاس آ کر ٹھہر گئے۔اور نہایت ہمدردی ظاہر کی اور ان کو تسلی دی۔وہاں ہی کھڑے کھڑے حکم دیا کہ قادیان کے عطّار آملہ ، کشٹے ، گڑ اور نمک لیتے آویں۔اور مٹی کے بڑے بڑے برتنوں میں ڈلوا دیا اور حکم دیا کہ جو چاہے گڑ ڈال کر پیئے اور جو چاہے نمکین پئے۔دوسرے دن ہیضہ سے قادیان پاک ہو گیا۔یہ تو چوہڑوں کے ساتھ جو نہایت غلیظ قوم ہے آپ کی ہمدردی کی ایک مثال ہے۔ایک دوسرے موقع پر بٹالہ کا راجہ تیجا سنگھ بیمار ہوا اس کو کار بنکل کی قسم کا ایک پھوڑا تھا۔بہت معالجات کئے گئے کوئی صورت فائدہ کی نہ ہوئی۔آخر حضرت مرزا صاحب قبلہ کی طرف رجوع کیا گیا اور اپنے عمائد کو بھیج کر مرزا صاحب کو بلایا۔مرزا صاحب کی توجہ اور تشخیص بے خطا ثابت ہوئی۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں شفا دی۔راجہ صاحب نے مرزا صاحب قبلہ کو ایک کثیر رقم اور خلعت شتاب کوٹ کے علاوہ بعض دیہات ان دیہات میں سے جو آپ کی ریاست کا ایک جزو تھے دینے کے لئے پیش کیا۔مگر آپ نے نہایت حقارت کے ساتھ اسے واپس کر دیا۔اور باوجود اصرار کے انکار کیا اور فرمایا:۔میں ان دیہات کو علاج میں لیتا اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے ہتک سمجھتا ہوں۔“ بات بظاہر نہایت معمولی ہے مگر اس سے اُن کی علو ہمتی اور بلند خیالی کا پتہ لگتا ہے۔اور ہر شخص اس واقعہ سے نتیجہ نکال سکتا ہے کہ وہ اپنی ریاست کو اپنی ہمت بازو سے لینا چاہتے تھے۔