حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 47
حیات احمد ۴۷ جلد اوّل حصہ اوّل ریاست کا صدر قادیان اور پانچ اور دیہات دے دئے۔اگر چہ مرزا غلام مرتضی صاحب کی اس وقت کی حالت کے لحاظ سے یہ بڑی کامیابی تھی مگر ان کو اپنے خاندان کی کامیابیوں اور اس کی ریاست پر نظر کر کے یہ خیال آتا تھا کہ جس طرح ممکن ہو اپنے دیہات مقبوضہ کو پھر حاصل کیا جاوے۔اور وہی پہلی ریاست کی شان قائم کی جاوے۔اُن کی کوشش اور محنت دن رات یہی تھی لیکن مشیت ایزدی کچھ اور چاہتی تھی۔اس لئے وہ اس خیال میں کامیاب نہ ہو سکے اور اس نا کامی کا انہیں بہت صدمہ تھا۔حضرت مرزا صاحب نے ان کی حالت کا آپ اس طرح پر اظہار کیا ہے۔کہ ”میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار روپیہ کے قریب خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر نا کامی تھی۔کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خیالِ خام تھا۔اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیاوی کدورتوں سے پاک ہے۔اگر چہ حضرت مرزا صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے۔اور سرکار انگریزی کی طرف سے کچھ انعام بھی سالانہ مقرر تھا اور ایامِ ملازمت کی پنشن بھی تھی۔مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ بیچ تھا اس وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو آج شائد قطب وقت یا غوث وقت ہوتا۔اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔بگذشت و نماند است جز آیا می چند عمر به که در یاد کے صبح کنم شامے چند ترجمہ: زندگی گزرگئی اور اس کے چند ایام باقی ہیں۔بہتر یہی ہے کہ اب کسی کی (یعنی خدا تعالیٰ کی یاد میں چند شامیں صبح تک صرف کر دی جائیں۔