حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 44 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 44

حیات احمد ۴۴ جلد اوّل حصہ اوّل میدانِ جنگ میں نکل کر ان پر فتح پاتے تھے۔اور کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ ان کے نزدیک آ سکے۔اور ہر چند جان توڑ کر دشمن کا لشکر کوشش کرتا تھا کہ تو پوں یا بندوقوں کی گولیوں سے ان کو ماریں مگر کوئی گولی یا گولہ ان پر اثر نہیں کرتا تھا۔یہ کرامت ان کی صد ہا موافقین و مخالفین بلکہ سکھوں کے منہ سے سنی گئی ہے۔جنہوں نے اپنے لڑنے والے باپ دادوں سے سند بیان کی تھی۔لیکن میرے نزدیک یہ کچھ تعجب کی بات نہیں۔اکثر لوگ ایک زمانہ دراز تک جنگی فوجوں میں نوکر رہ کر بہت سا حصہ اپنی عمر کا لڑائیوں میں بسر کرتے ہیں۔اور قدرت حق سے کبھی ایک خفیف سا زخم بھی تلوار یا بندوق کا ان کے بدن کو نہیں پہنچتا۔سو یہ کرامت اگر معقول طور پر بیان کی جائے کہ خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل سے دشمنوں کے حملوں سے انہیں بچاتا رہا تو کچھ حرج کی بات نہیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ میرزا صاحب مرحوم دن کے وقت ایک پُر ہیبت بہادر اور رات کے وقت ایک باکمال عابد تھے اور معمور الاوقات اور متشرع بزرگ تھے۔حضرت میر زاگل محمد صاحب کی وفات حضرت میرزا گل محمد صاحب نے ہچکی کی بیماری سے وفات پائی۔ہچکی کے ساتھ بعض اور عوارض بھی تھے۔بیماری کے غلبہ کے وقت اطباء نے اتفاق کر کے کہا کہ اس مرض کے لئے اگر چند روز شراب کا استعمال کیا جائے تو غالباً اس سے فائدہ ہوگا۔مگر جرأت نہیں رکھتے تھے کہ ان کی خدمت میں عرض کریں۔آخر بعض نے ان میں سے نرم تقریر میں عرض کر دیا۔تب انہوں نے کہا کہ اگر خدا تعالیٰ کو شفا دینا منظور ہو تو اس کی پیدا کردہ اور بھی بہت سی دوائیں ہیں۔میں نہیں چاہتا کہ اس پلید چیز کو استعمال کروں اور میں خدا تعالیٰ کے قضا و قدر پر راضی ہوں۔“ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۷۰ حاشیه ) آخر چند روز کے بعد اسی مرض سے انتقال فرما گئے۔موت تو مقدر تھی۔مگر ان کا یہ طریق تقویٰ ہمیشہ کے لئے یادگار رہا کہ موت کو شراب پر اختیار کر لیا۔موت سے بچنے کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کرتا لیکن انہوں نے معصیت کے ارتکاب سے موت کو بہتر سمجھا۔