حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 43
حیات احمد ۴۳ جلد اوّل حصہ اول سے ایسا مرد موجود ہے۔جس میں صفات ضرور یہ سلطنت کے پائے جاتے ہیں۔تو میں اسلامی سلطنت کے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کرتا۔کہ ایام کسل اور نالیاقتی اور بدوضعی ملوک چغتائیہ میں اسی کو تخت دہلی پر بٹھایا جاوے۔غرض میرزا صاحب مرحوم ایک مرد اولوالعزم اور متقی اور غایت درجہ کے بیدار مغز اور اوّل درجہ کے بہادر تھے۔اگر اس وقت مشیت الہی مسلمانوں کے مخالف نہ ہوتی۔تو بہت امید تھی کہ ایسا بہادر اور اولو العزم آدمی سکھوں کی شورش سے پنجاب کا دامن پاک کر کے ایک وسیع سلطنت اسلام کی اس ملک میں قائم کر دیتا۔جس حالت میں رنجیت سنگھ نے باوجود اپنی تھوڑی سی پدری ملکیت کے جو صرف نو گاؤں تھی۔تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر پیر پھیلائے تھے جو پشاور سے لودہانہ تک خالصہ ہی خالصہ نظر آتا تھا۔اور ہر جگہ ٹڈیوں کی طرح سکھوں ہی سکھوں کی فوجیں دکھائی دیتی تھیں۔تو کیا ایسے شخص کے لئے یہ فتوحات قیاس سے بعید تھیں۔جس کی گم شدہ ملکیت میں سے ابھی چوراسی یا پچاسی گاؤں باقی تھے۔اور ہزار کے قریب فوج کی جمعیت بھی تھی۔اور اپنی ذاتی شجاعت میں ایسے مشہور تھے کہ اس وقت کی شہادتوں سے بہ بداہت ثابت ہے کہ اس ملک (ماجھا) میں ان کا کوئی نظیر نہ تھا۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے یہی چاہا تھا کہ مسلمانوں پر ان کی بے شمار غفلتوں کی وجہ سے تنبیہ نازل ہو۔اس لئے مرزا صاحب مرحوم اس ملک کے مسلمانوں کی ہمدردی میں کامیاب نہ ہو سکے۔حضرت مرزا گل محمد صاحب ولی اور صاحب کرامات تھے اور میرزا صاحب مرحوم کے حالات عجیبہ میں سے ایک یہ ہے کہ مخالفین مذہب بھی ان کی نسبت ولایت کا گمان رکھتے تھے اور ان کے بعض خارق عادت امور عام طور پر دلوں میں نقش ہو گئے تھے۔یہ بات شاذ و نادر ہوتی ہے کہ کوئی مذہبی مخالف اپنے دشمن کی کرامات کا قائل ہولیکن حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے مرزا صاحب مرحوم کے بعض خوارق عادات ان سکھوں کے منہ سے سنے ہیں جن کے باپ دادا مخالف گروہ میں شامل ہو کر لڑتے تھے۔اکثر آدمیوں کا بیان ہے کہ بسا اوقات مرزا صاحب مرحوم صرف اکیلے ہزار ہزار آدمی کے مقابل پر