حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 42 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 42

حیات احمد ۴۲ جلد اوّل حصہ اوّل متعلقین میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو تارک نماز ہو۔یہاں تک کہ چکی پینے والی عورتیں بھی پنج وقتہ نماز اور تہجد پڑھتی تھیں۔اور گرد و نواح کے معزز مسلمان جو اکثر افغان تھے۔قادیان کو جو اس وقت اسلام پور کہلاتا تھا مکہ کہتے تھے۔کیونکہ اس پُر آشوب زمانہ میں ہر ایک مسلمان کے لئے یہ قصبہ مبارکہ پناہ کی جگہ تھا اور دوسری اکثر جگہوں میں کفر اور فسق اور ظلم نظر آتا تھا اور قادیان میں اسلام اور تقویٰ اور طہارت اور عدالت کی خوشبو آتی تھی۔گویا اس وقت یہ ایک باغ تھا جس میں حامیانِ دین اور صلحاء اور علماء اور نہایت شریف جوانمرد آدمیوں کے صدہا پودے پائے جاتے تھے اور سب کے سب متقی اور نیک چلن اور اسلامی غیرت رکھنے والے تھے۔منکرات شرعی کو اپنے حد و دریاست میں وہ رائج نہیں ہونے دیتے تھے اور اگر کوئی مسلمان ہو کر خلاف شعار اسلام کوئی لباس یا وضع رکھتا تھا۔تو وہ سخت مورد عتاب ہوتا تھا اور سقیم الحال اور غرباء اور مساکین کی خبر گیری کے لئے ایک خاص سرمایہ نقد و جنس کا جمع رہتا تھا۔جو وقتاً فوقتاً ان میں تقسیم ہوتا رہتا تھا۔حضرت مرزا گل محمد صاحب ایسے صائب تدبیر اور قابل ناظم تھے کہ اُس طوائف الملو کی اور سکھا شاہی میں انہوں نے اپنے وقار اور امتیاز کو قائم رکھا۔وہ اپنے پچاسی گاؤں پر کامل اقتدار کے ساتھ فرمانروا تھے۔اور انہوں نے اپنی مستقل ریاست کا پورا پورا انتظام کر لیا تھا اور دشمنوں کے حملے روکنے کے واسطے ایک کافی فوج اپنے پاس رکھ لی اور تمام زندگی ان کی ایسی حالت میں گزری کہ کسی دوسرے بادشاہ کے ماتحت نہیں تھے اور نہ کسی کے خراج گذار بلکہ اپنی ریاست میں خود مختار حاکم تھے اور قریب ایک ہزار کے سوار و پیادہ ان کی فوج تھی۔اور تین تو ہیں بھی تھیں۔ایسی حالت میں جبکہ دہلی کی سلطنت بجائے خود مشکلات میں تھی۔ایک وزیر سلطنت مغلیہ کا جس کا نام غیاث الدولہ تھا قادیان میں آیا اور اس نے حضرت مرزا گل محمد صاحب کے مدبرانہ طریق اور بیدار مغزی اور ہمت اور اولوالعزمی اور استقلال اور عقل و فہم اور حمایت اسلام اور جوش نصرت دین اور تقوی وطہارت اور دربار کے وقار کو دیکھا اور ان کے اس مختصر دربار کو نہایت متین، عقلمند اور نیک چلن اور بہادر مردوں سے پر پایا۔تب وہ چشم پر آب ہو کر بولا کہ اگر مجھے پہلے خبر ہوتی ، کہ اس جنگل میں خاندان مغلیہ میں