حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 41
حیات احمد ام جلد اوّل حصہ اوّل زیادہ سخت تھی۔بنی اسرائیل تو کھلم کھلا اپنی عبادات بھی بجالا سکتے تھے لیکن یہاں مسلمانوں کو نماز کے لئے اذان دینے کی بھی اجازت نہ تھی۔مسجدوں اور معبدوں کو گرانے میں بڑی خوشی ظاہر کرتے تھے۔اس زمانہ کی بر چھا گردی کا ثبوت قادیان میں آج تک ایک مسجد دہرم سالہ بنی ہوئی دے رہی ہے۔اس وقت اس خاندان کا جو بزرگ فرمانروائے حکومت تھا۔ان کا نام نامی حضرت مرزا گل محمد صاحب تھا۔حضرت میرزا گل محمد کا عہد حکومت حضرت میرزا گل محمد صاحب ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے اور اس وقت ۸۵ گاؤں اُن کے قبضہ میں تھے۔اور بہت سے گاؤں سکھوں کے متواتر حملوں کی وجہ سے ان کے قبضہ سے نکل گئے۔تاہم ان کی جوانمردی اور فیاضی کی یہ حالت تھی کہ اس قدر قلیل میں سے بھی کئی گاؤں انہوں نے مروّت کے طور پر بعض تفرقہ زدہ مسلمان رئیسوں کو دے دیئے تھے جو اب تک ان کے پاس ہیں۔میرزا گل محمد صاحب علاوہ ریاست و امارت کے اپنی دیانت، امانت، پرہیز گاری اور مردانہ ہمت اولوالعزمی اور حمایتِ دین و ہمدردی مسلماناں کی صفت میں بہت مشہور تھے اور مشائخ و بزرگان زمانہ سے شمار ہوتے تھے۔اور صاحب خوارق و کرامات تھے۔ان کی صحبت میں رہنے کے لئے بہت سے اہل اللہ اور صلحاء و علماء و فضلاء قادیان میں جمع رہتے تھے۔اور عجیب تریہ بات ہے کہ کئی کرامات ان کی ایسی مشہور ہیں کہ ایک گروہ کثیر مخالفان دین کا بھی گواہی دیتا رہا ہے اور ان کی مجلس میں بیٹھنے والے سب کے سب متقی اور نیک چلن اور اسلامی غیرت رکھنے والے فسق و فجور سے دور رہنے والے بہادر اور بارعب آدمی تھے۔ہمیشہ قریب پانچ سو آدمی کے یعنی کبھی کم اور کبھی زیادہ ان کے دستر خوان پر روٹی کھاتے تھے۔اور ایک سو قریب ( دوسری روایت کے موافق پانچ سو ) علماء اور صلحاء اور حافظ قرآنِ شریف کے اُن کے پاس رہتے تھے۔جن کے کافی وظیفے مقرر تھے اور ان کے دربار میں اکثر قال اللہ اور قال الرسول کا ذکر بہت ہوتا تھا اور تمام ملازمین اور کہتے ہیں حضرت شاہ عبداللہ غازی بزرگ ان کے ہی زمانہ میں تھے۔(مرتب)