حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 37 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 37

حیات احمد ۳۷ جلد اوّل حصہ اوّل اسلام پور رکھا۔میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ اس قوم کے اور حضرت مسیح موعود کے مورث اعلیٰ حضرت مرزا ہادی بیگ صاحب کو اسلام سے بہت محبت تھی اور وہ اپنی دینی اور عملی حالت کے لحاظ سے ایک ممتاز بزرگ تھے۔یہ بات یہاں آ کر اپنے آباد کردہ قصبہ میں بھی انہوں نے ملحوظ رکھی۔ممکن تھا کہ آج کل کے دنیا پرستوں کی طرح اس گاؤں کا نام ہادی پورہ یا بر لاس پورہ رکھ لیتے مگران کی دینداری اور زاہدانہ طبیعت نے پسند کیا کہ اس کا نام اسلام پور رکھیں۔چونکہ یہ علاقہ جس میں مرزا ہادی بیگ نے اپنے رہنے کے لئے یہ گاؤں آباد کیا ماجھا کہلاتا تھا۔جس کا طولانی حصہ قریباً ساٹھ کوس ہے اور شائد یہ نام اس واسطے رکھا گیا ہو کہ اس ملک میں بھینسیں بکثرت ہوتی ہیں۔اور ماجھ زبان ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں۔یہ بستی جو حضرت مرزا ہادی بیگ صاحب نے آباد کی اور جس کا نام اسلام پور رکھا۔یوما فَيَوْمًا ترقی کرنے لگی۔اور اس کے ارد گرد کثرت سے دیہات آباد ہو گئے اور مرزا ہادی بیگ کی نیک چلنی ، حسن اخلاق، دینداری اور اسلامی غیرت و محبت کا تمام گرد و نواح میں عام شہرہ ہو گیا اور شجاعت و طاقت کی ہیت تمام علاقہ پر چھا گئی۔یہاں تک کہ اس سارے علاقہ کی حکومت اس خاندان کے ہاتھ میں آگئی اور اسلام پور جواب قادیان کہلاتا ہے۔اس سارے علاقہ کا جو (۶۰ میل تک پھیلا ہوا تھا) صدر مقام ٹھہرا۔اور یہیں صدر عدالت یعنی دارالقضا تھا۔اس لئے لوگوں نے اس قصبہ کا نام اسلام پور قاضی ما جبھی مشہور کر دیا۔چونکہ زبان محاورہ اختصار پسند ہوتی ہے اس لئے رفتہ رفتہ لوگوں نے اسلام پور کو چھوڑ کر کچھ عرصہ تک اس کو قاضی ماجھی کے نام سے پکارتے رہے۔اور پھر امتدادِ زمانہ نے قاضی ماجھی کی بجائے صرف قاضی نام باقی رہنے دیا۔اور چونکہ ض کے تلفظ میں اہل ہندو پنجاب عموماً د سے کام چلاتے ہیں۔اس لئے قاضی کی بجائے قادی ہو گیا۔پھر اس سے بگڑ کر قادیان بنا اور آج کل اسی جگہ کو قادیان کہتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا کہ مہدی قصبہ کدعہ سے پیدا ہو گا۔وہ اسی قصبہ قادی کا پتہ ہے جو لوگ کشفی زبان اور اجنبیت رسم الخط کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کدعہ اور قادی ایک ہی ہیں۔