حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 36
حیات احمد جلد اوّل حصہ اول مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے ہمارے بزرگ سمر قند سے اس ملک میں آئے مگر کاغذات سے یہ پتہ ملتا ہے کہ اس ملک میں بھی وہ معزز امراء اور خاندان والیان ملک میں سے تھے اور انہیں کسی قومی خصومت اور تفرقہ کی وجہ سے اس ملک کو چھوڑنا پڑا۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۶۵۴۶۴ حاشیه ) اصل حقیقت جو ہم قیاس کر سکتے ہیں۔کہ چونکہ مسیح موعود کی بعثت کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں کدعہ آچکا تھا اس لئے بعض ایسے اسباب پیدا ہو گئے کہ یہ بزرگ با وجود گھر میں ہر طرح آرام و آسائش کے مشیت ایزدی کے ماتحت وہاں سے چل کھڑے ہوئے۔مال و اسباب جو کچھ وہ لے سکے ساتھ لیا۔اور اپنے عیال و اطفال اور خدام کو لے کر روانہ ہوئے۔یہ مختصر سا قافلہ جو قریباً دو سو آدمیوں پر مشتمل تھا۔دسویں صدی ہجری کے قریب خراسان سے نکل کر رکش میں آیا۔اور آخر وہاں بھی چین نہ آیا۔تو پُر خطر جنگلوں اور بیابانوں کو طے کرتے اور پہاڑوں اور دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے سیدھے پنجاب میں آ داخل ہوئے۔نہ تو راستے میں کوئی جگہ مسکن بنانے کے لئے پسند آئی اور نہ ہی پنجاب میں کسی اور جگہ دل لگا آخر دریائے بیاس کے قریب ایک جنگل پڑا تھا۔وہاں یہ قافلہ اتر پڑا۔گرد و نواح کا علاقہ اپنے تصرف میں لا کر ایک مقام اپنے مکان اور قلعہ کے لئے تجویز کر لیا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود لکھتے ہیں کہ ”میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جواب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمر قند سے آئے تھے۔اور ان کے ساتھ قریباً دوسو آدمی اُن کے توابع اور خدام اور اہل وعیال میں سے تھے۔اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے۔“ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۶۳،۱۶۲ حاشیه ) ورود پنجاب اور قادیان کا بنیادی پتھر اور اس قصبہ ( قادیان) کی جگہ میں جو اس وقت جنگل پڑا ہوا تھا۔اور جو لاہور سے تخمیناً پچاس کوس گوشه شمال و مشرق میں واقعہ ہے فروکش ہو گئے جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام