حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 440
حیات احمد ۴۴۰ جلد اول حصہ سوم آجاتا تھا۔ایسی نیک اور خدا رسیدہ خاتون نے دنیا کو حضرت مسیح موعود جیسا عظیم الشان انسان دیا۔اور میں سوانح کی دوسری جلد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہمشیرہ مراد بی بی صاحبہ کا بھی ذکر کر آیا ہوں کہ وہ بھی خدا رسیدہ اور ایک مجذوب خاتون تھی۔بچپن کے سفروں میں دوسرا سفر آپ کا ہوشیار پور کا ہے۔جہاں ایک اور رشتہ دار خاندان موجود تھا۔اس خاندان سے بھی سلسلہ رشتہ داری برابر چلا آتا تھا۔اور آئمہ والے خاندان کے ساتھ بھی ہوشیار پوری خاندان کے تعلقات رشتہ داری رہتے تھے۔چنانچہ مرزا احمد بیگ صاحب ہوشیار پوری کی ہمشیرہ کی شادی مرزا علی شیر بیگ سے جو حضرت اقدس کے ماموں زاد بھائی تھے ہوئی۔اور ان کی دختر سے مرزا فضل احمد صاحب مرحوم کی شادی ہوئی۔چونکہ حضرت صاحب کی والدہ محترمہ ہوشیار پور جایا کرتی تھیں تو آپ بھی ساتھ ہوتے تھے۔وہاں آپ تنہا چوؤں میں ( جو وہاں کے برساتی نالے ہیں ) پھرتے رہتے تھے۔مختصر یہ کہ آپ کی ابتدائی زندگی میں تنہائی اور خلوت کا پہلو ہمیشہ نمایاں نظر آتا ہے۔اور اس کا طبیعت پر بہت بڑا غلبہ تھا۔اس طرح پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بچپن عام بچوں سے اس امر میں ممتاز تھا کہ آپ کھیل کود میں کوئی حصہ نہ لیتے تھے اور بچپن میں بھی تنہائی پسند تھے۔تعلیم کے ایام میں بھی دوسروں سے الگ رہتے اور اپنی توجہ اپنے سبقوں کی طرف رکھتے۔جوانی کا آغاز ہوا تو عبادت الہی کا شوق ہوا اور جوانی کی ساری امنگیں اور تمنائیں ذوق عبادت اور محبت الہی کے محور پر گردش کرنے لگیں دنیا اپنی تمام دلفریبیوں کے باوجود آپ کی نظر میں ایک مَكْرُوهُ الْهَيْئَت چیز ہوگئی۔اور آخرت اور خدا میں زندگی کے جذبات میں اس قدر تموج پیدا ہوا کہ اپنے والد محترم کی خدمت میں گوشہ گزینی کی درخواست کر دی اور ہر وقت مکن تکیه بر عمر نا پائیدار آپ کے زیر نظر رہنے لگا۔شادی باوجود یکہ عین عنفوان شباب میں ہوئی۔مگر شادی کی تمام مسرتیں اور جذبات کی طبعی موجیں آپ کی غلام ہو گئیں۔پوری قدرت اور حکومت اپنے جذبات پر