حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 429
حیات احمد ۴۲۹ قیام بٹالہ کے متعلق بعض باتیں جلد اول حصہ سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے عہد شباب میں بٹالہ مولوی سید گل علی شاہ صاحب کے پاس تعلیم کے لئے غدر کے زمانہ کے قریب بھیجے گئے تھے۔آپ کا بٹالہ میں بہت بڑا عالی شان مکان تھا۔میں آپ کی تعلیم کے سلسلہ میں یہ امرلکھ آیا ہوں کہ ابتداء سید گل علی شاہ صاحب قادیان میں تعلیم دینے کے لئے آتے تھے۔اس زمانہ میں وہ میرزا نظام الدین صاحب والے دیوان خانہ کے جنوبی حصہ میں رہا کرتے تھے۔پھر وہ بٹالہ چلے گئے اور حضرت اقدس بھی بغرض تعلیم وہاں تشریف لے گئے۔اس وقت آپ کے ہم مکتبوں میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے اور لالہ بھیم سین بھی وہیں آپ کے ساتھ اُن سے پڑھتے تھے۔حضرت اقدس کی پاکیزہ زندگی اور شریفانہ اور غیور طبیعت اور زاہدانہ طرز زندگی سے ذاتی طور پر واقف تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بقیہ حاشیہ : اقول۔باوا صاحب آپ نے اتنا جنگ اور اس قدرات کر کے آخیر کا ر ہم سے صلح کر لی۔اب ہم آپ کو آپ ہی کے قول سے قائل کرتے ہیں کہ جس حالت میں پر میشر اپنی نظر ازلی سے دیکھ رہا ہے کہ اتنے روح مکتی کے اعمال بجالاویں گے۔اور میں ان کو مکتی دوں گا۔پس ضرور ہوا کہ وہ سب ارواح کسی دن ملکتی پا جائیں۔ورنہ وہ نظر از لی پر میشر کی غلط ٹھہرے گی۔اور جب مکتی پا گئے تو وہی اعتراض ہمارا جس سے آپ منہ پھیرتے ہیں۔آپ پر وارد ہوا اور پہلے سے بھی کئی پختہ دلائل سے یہی اعتراض آپ کے دست بدامن ہو رہا ہے۔مگر اب تک آپ سے کچھ جواب نہ بن پڑا۔اور اگر چہ آپ بہت ہی کو دے اچھلے مگر آخر کار وہی آش در کا سہ رہا۔اخیر پر آپ نے لاچار اور عاجز ہو کر اور چاروں طرف سے رک کر اب یہ اقرار کیا کہ جن روحوں کے اعمال پر میشر کی نظر میں قابل نجات ہیں۔وہ روح ضرور مکتی پا جائیں گے۔سواس اقرار میں آپ صاف مان گئے کہ مکتی پانے والی روحوں کا ایک دن خاتمہ ہے۔سو بہت خوب۔ہم نے آپ کا یہ اقبال دعوی بسر و چشم منظور کیا۔ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ آخر آپ کو ماننا پڑے گا۔سومشفق دیکھئے کہ اخیر کو وہی بات ہوئی۔اب چونکہ بہت سی پکی دلیلوں اور خود اقرار مبارک سے اعتراض ختم ہونے