حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 427
حیات احمد ۴۲۷ جلد اوّل حصہ سوم چونکہ براہین کے زمانہ کے بعد کا زمانہ آپ کے حالات زندگی کا ایسا آ جاتا ہے جہاں تحریر ہماری پوری مساعدت کرتی ہے۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس باب کو شروع کرنے سے پہلے اس امر کا اظہار کر دوں۔میں یہ بھی ظاہر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے ان حالات کو ۱۸۹۸ء سے لے کر جبکہ میں قادیان میں مستقل طور پر آیا۔جمع کرنا شروع کر دیا تھا کیونکہ اس وقت تک ان لوگوں کو واقعات اور حالات کا تازہ ترین علم تھا۔اور حضرت کی پبلک لائف پر بہت زمانہ نہیں گزرا تھا۔ان مندرجہ بالا راویوں کے علاوہ میں نے خان بہادر میرزا سلطان احمد صاحب اور میرزا فضل احمد صاحب مرحوم سے بھی واقعات اور حالات کی توثیق کرائی۔اس کے متعلق میرا طریق عمل بقیہ حاشیہ: قولہ۔خدا کو روحوں کی تعداد معلوم نہیں۔جیسے اس کو اپنا انتہا معلوم نہیں۔اقول اے حضرت! میں آپ کی کس کس غلطی کی اصلاح کروں۔یہ تو آپ نے قیاس مع الفارق بیان کر کے اپنے عجیب فہم کا انتہا ظاہر کیا۔ورنہ ہر عاقل پر روشن ہے کہ خدا ہر چیز کو اسی طرح جانتا ہے۔جیسے اس کے حالات واقعی ہوں۔پس جب کہ خدا کی ذات کا واقعی حال یہی ہے۔جو وہ بے انتہا اور سرب بیا پک یعنی محیط گل ہے۔تو پھر خدا کا اپنے انتہا کو معلوم کرنا خلاف واقعہ کا معلوم کرانا ہے۔اور یہ خود باطل اور خدا کی شان کے خلاف ہے۔جیسے اگر کسی جگہ دو آدمی موجود ہوں تو خدا ان کو تین آدمی نہیں جانے گا بلکہ صرف دو آدمی جانے گا۔کیونکہ دو کا تین جاننا خلاف واقعہ ہے۔لیکن کل روحوں کا جاننا اور ان کا شمار معلوم کرنا ایسا علم ہے جو اس کو واقعہ کے برخلاف کہا جائے۔کیونکہ ہر روح اپنے اپنے وجود کی فی الحقیقت ایک حد اور انتہا رکھتا ہے۔جس کا جاننا خلاف واقعہ جانا نہیں ہے۔بلکہ نہ جاننا اس کا صفت عَالِمُ الغَيْبِی کے برخلاف ہے۔کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ بوصف یہ کہ فی الواقعہ ایک امر خارج میں موجود تھا۔پر خدا کی نظر سے پوشیدہ رہا۔اب سوچنا چاہیئے کہ جب واقعی حال یہی ہے کہ ارواح بقید اپنے اپنے حد اور انتہا کے بیچ بیچ دنیا میں موجود ہیں تو لازم آیا کہ اس واقعی حال کا خدا