حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 426 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 426

حیات احمد ۴۲۶ جلد اول حصہ سوم سے میں نے مواد لیا ہے۔غرض میں نے جو کچھ لکھا ہے۔اپنی صحیح تحقیقات سے لکھا ہے۔حالات میں نے ان لوگوں سے دریافت کئے ہیں جن کو حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے یا آپ کے ساتھ کسی نہ کسی طرح تعلق رکھنے کا شرف اور عزت مل چکی ہے۔میں ان راویوں کا بھی ذکر کر دینا مناسب اور ضروری سمجھتا ہوں کہ جنہوں نے حضرت کی خدمت گزاری کے طور پر ایک زمانہ گزارا ہے۔جیسے حافظ حامد علی صاحب مرحوم۔حافظ معین الدین مرحوم۔میرزا اسماعیل بیگ صاحب۔میرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر ان ، قاضی علی محمد صاحب مرحوم اور اسی طرح میں نے میاں میراں بخش حجام اور دھننو میراثی۔جو حضرت کے خاندان کے ساتھ پشت ہا پشت سے تعلق رکھتے ہیں۔بعض حالات کو لیا ہے۔بقیہ حاشیہ :۔خرچ کرے۔تو ہم اس جگہ بیٹھے رائے دے سکتے ہیں کہ جس قدر خرچ ہوا۔اس قدر ضرور کمی ہوئی ہوگی۔یہ کیا ضرور ہے کہ سارے جہان کے خزانے اوّل ہم کو معلوم ہو لیں۔تب ہم رائے ظاہر کر سکیں۔معلوم ہوتا ہے کہ باوا صاحب نے وہ اوٹ پٹانگ حساب جو جواب ثانی میں درج فرمایا تھا۔ضرور کسی طفل مکتب سے مشورہ لے کر لکھا ہوگا۔ورنہ بالغوں کا تو یہ ہرگز کام نہیں۔اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ جیسا خدا کل روحوں کی تعداد جانتا ہے ویسا ہی اس کو وہ سب روح بھی معلوم ہیں کہ جو آخر کار مکتی پاویں گے۔اب فرض کیجئے۔کہ خدا کے علم غیب میں یہ مقرر ہے جو سب روح مکتی پا جاویں گے۔یا یوں ٹھہرائیے کہ بعض مکت ہوں گے اور بعض کبھی نہیں۔بہر حال یا تو کسی دن سب روحوں کا خاتمہ ہے یا پھر مکتی پانے والے نکل کر پر میشر کے ہاتھ میں صرف کیڑے مکوڑے رہ جائیں گے۔جن کی کبھی ملتی نہیں۔اگر یہ کہو کہ اگر چہ پر میشر کے ارادہ اور علم اور تقدیر میں بعض روحوں یا سب روحوں کا مکتی پانا ہوں۔مقرر ہے۔مگر پھر بھی وہ مکتی نہیں پاویں گا۔تو اس میں سرا سر تحقیر اور توہین پرمیشر کی ہے۔کیونکہ پھر ایسے پر میشر کی کیا عزت رہ گئی۔جس کا علم جھوٹا نکلا۔اور ارادہ پورا نہ ہوا۔تقدیرٹیل گئی۔۔یہ غالبالنگر وال ہے۔(ناشر)