حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 425 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 425

حیات احمد ۴۲۵ جلد اول حصہ سوم مسماۃ لاڈو ( جو خاکسار عرفانی کے گھر کے سامنے رہتی تھیں ) سے لی ہیں۔اور یا حضرت تائی صاحبہ مرحومہ سے اور آپ کے شباب کے حالات قادیان کے پرانے اور عمر رسیدہ لوگوں سے جن میں پنڈت خوشحال رائے۔بہار امل حکیم ہندوؤں میں سے اور کشن سنگھ اور نہال سنگھ بانگر و۔دیور سنگھ ترکھان۔سکھوں میں سے میں نے لئے ہیں۔مسلمانوں سے میاں شمس الدین اور میاں غلام قادر صاحب سے اور میاں جانی کشمیری۔اور میاں جان محمد امام مسجد۔میاں محمد بخش۔منشی مراد علی صاحب۔مرزا نظام الدین و امام الدین صاحب و مرزا علی شیر بیگ صاحب۔ومرزا میرا بخش صاحب مرحوم۔بہادر و نظام کشمیری۔غفارا کشمیری۔حاکو و نا کو۔پسران مائی لاڈو دائی۔اردگرد کے دیہات میں سے میری روایات جھنڈ اسنگھ ساکن کا ہلواں اور میاں خیر اسا کن کھارا اور شیخ عبدالرحمان صاحب نو مسلم بشر و منشی فیروز الدین پٹواری بٹر تک پہنچتی ہیں۔ان حالات کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں یا آپ کے معاصرین کی تحریروں میں اگر کوئی مواد ملا ہے تو میں نے اسے مقدم رکھا ہے۔سیالکوٹ کے واقعات میں جناب مولانا میر حسن صاحب قبلہ اور حضرت حکیم میر حسام الدین صاحب مرحوم بقیہ حاشیہ: بے علم نہیں۔مگر خود آپ ہی علم اور عقل سے بیگا نہ ہیں۔اب جیسا کہ تحقیق ہو گیا کہ خدا کو کل تعداد ارواح موجودہ کا معلوم ہے۔تو اس میں کچھ شک و شبہ نہیں کہ جب وہ اپنی جمع معلومہ سے کس قدر ارواح نکالے گا۔تو از روئے قاعدہ یقینی حساب کر کے ضرور اس قدر جمع مقرر میں کمی ہو جائے گی۔اور مفروق اور مفروق منہ مل کر اس اصل جمع کے برابر ہوں گے۔اور جب اس طرح جمع میں کمی ہوتی گئی اور باہر سے آمدن نہ ہوئی تو ضرور ایک دن خاتمہ ہو جائے گا۔اور یہ جو باوا صاحب فرماتے ہیں کہ تعداد روحوں کی ہم کو بھی معلوم ہونی چاہیئے۔تب قاعدہ جمع تفریق کا ان پر صادق آوے گا۔یہ ان کے انواع اقسام کی خامیاں ہیں۔جو لوگوں کو معلوم کرا رہے ہیں۔ورنہ ظاہر ہے کہ جمع بھی خدا کی ہے اور تفریق بھی وہی کرتا ہے اور ہم کو کوئی برہان منطقی مانع اس امر کی نہیں کہ ہم اس امر متیقن متحقق پر رائے نہ لگا سکیں۔ہاں اگر یہ امر ثابت ہوتا ہے۔خدا کو اپنی جمع بھی معلوم نہیں تو بے شک شک کرنے کی گنجائش بھی تھی۔دیکھو اگر کوئی یہاں سے دس ہزار کوس پر اپنی جمع معلومہ میں سے کچھ