حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 420 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 420

حیات احمد ۴۲۰ جلد اول حصہ سوم باوجود اس امر کے حضرت کی توجہ براہین احمدیہ کے کام کے آغاز کے قریب قریب آریہ سماج اور براہم سماج کی طرف بے حد تھی۔اور آپ اس فتنہ کی سختی کو خصوصیت سے محسوس کر رہے تھے۔اس کے کئی اسباب تھے ایک یہ کہ تعلیم یافتہ طبقہ کو ان جدید خیالات کی طرف زور سے توجہ ہورہی تھی۔بنگال میں برہمو ازم ترقی کر رہا تھا۔اور بمبئی کی طرف آریہ سماج بڑھ رہا تھا۔اور اب یہ تحریکیں بنگال اور بمبئی سے نکل کر پنجاب میں آچکی تھیں۔اور زور وشور سے اس کا اثر پھیل رہا تھا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ سب سے ضروری اور اصل الاصول چیز مذہب میں خدا کی وحی اور سلسلہ نبوت ہے بقیہ حاشیہ:- اور نیز آپ پر واضح ہو کہ اصول ہندسہ میں یہ قاعدہ مسلّم ہے کہ جس چیز کو ایک یا کئی حدودں نے گھیرا ہوا ہو۔وہ کبھی غیر محدود نہیں ہو سکتیں بلکہ اصطلاح ہندسین میں اس کا نام شکل ا ہے۔اور شکل خواہ کیسی ہی طویل و عریض ہو ایک حد اور انتہا رکھتی ہے۔اب اسی طرح ہم یہ کہتے ہیں کہ جب وقت واحد کے حد میں کئی ایک ایسی چیزیں جمع ہوں۔جو سب فرداً فرداً اپنا اپنا حد اور انتہا ر کھتے ہوں۔تو مجموعہ ان سب کا بھی ایک انتہا اور حد ر کھے گا۔ورنہ لازم آوے گا کہ محدود چیزوں سے غیر محدود پیدا ہو اور یہ بات بموجب اصول مذکورہ کے صریح باطل ہے۔پس علاوہ دلائل عشرہ کے روحوں کے محدود ہونے کی ایک اور دلیل نکل آئی۔اور آپ ہم کو قائل کرتے کرتے خود ہی قائل ہو گئے۔مرا خواندی و خود بدام آمدی نظر پخته تر کن که خام آمدی اور آپ کی تقریر مذکورہ بالا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کو علاوہ علم صرف و منطق کے علم ہندسہ میں بھی خوب دخل ہے۔جو محدود چیزوں کے مجموعہ کو غیر محدود قرار دیتے ہیں۔غرض آپ سب علوم وفنون میں بے نظیر ہیں۔تب ہی تو جواب کہے بیٹھے تھے۔قولھم۔ایک نام گنتی نہیں ہے۔ترجمہ: تو میری خواہش کرتا تھا مگر خود دام میں پھنس گیا۔اپنی نظر پختہ کر کیونکہ تو غلط سمجھا تھا۔