حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 409 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 409

حیات احمد ۴۰۹ جلد اول حصہ سوم آپ کی فطرت میں یہ جوش اور تڑپ تھی کہ لوگ معرفتِ الہی سے بہرہ اندوز ہوں۔اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندہ میں جو رشتہ ہے اس کو مضبوط کریں۔چونکہ یہ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اتباع اور محبت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے عام طور پر آپ کثرت سے درود شریف پڑھنے کی لوگوں کو ہدایت فرمایا کرتے تھے۔جو وقتا فوقتا آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔اور جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا جب آپ بیعت لینے پر مامور ہوئے۔آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف پڑھنا اپنی شرائط بیعت میں داخل کر دیا۔عیسائیوں کے فتنہ کا انسداد عیسائیوں کے ساتھ مذہبی بات چیت کا سلسلہ تو ان ایام میں شروع ہوا تھا جب آ۔سیالکوٹ میں مقیم تھے لیکن جب وہاں سے واپس تشریف لے آئے اور قادیان میں مقیم ہو گئے تو بقیہ حاشیہ: - ہے۔اور بغیر اسباب آنکھوں کے دیکھتا ہے۔اور بغیر اسباب کانوں کے سنتا ہے اور بغیر اسباب زبان کے بولتا ہے۔تو بیشک اس بات کا بھی یقین کرے گا جو وہ قادر خدا بغیر اسباب پیدائش کے پیدا بھی کر سکتا ہے۔ورنہ ایسی عقل کے مالک سے کوئی دوسرا بھی پوچھے گا کہ خدا کس مادے سے بنا ہوا ہے۔اور باوصف معدوم ہونے اسباب بینائی اور شنوائی اور گویائی کے پھر کس طرح دیکھتا اور سنتا اور کلام کرتا ہے۔کیونکہ اگر وہ پیدا کرنے کی صفت میں محتاج با سباب ہے تو بے شک دوسری صفات میں بھی محتاج باسباب ہوگا اور اگر نہیں تو سب میں نہیں۔جب خدا کو لا يدرك مانا گیا۔تو مقتضاء عقل اور ایمان کا یہ ہے جو اس کی صفات کو بھی لا يُدرك مانا جائے۔ورنہ ظاہر ہے کہ اگر عقل کی نظر کسی صفت ربانی کے اول آخر پر پڑ جاوے تو وہ صفت محدود ہو جاوے گی۔اور صفت کے محدود ہونے سے محدود ہونا ذاتِ باری کا لا زم آوے گا۔اور لطف تو یہ ہے کہ مجیب صاحب خود اقراری ہیں کہ ارواح مخلوق ہیں۔اور پھر نیستی ہستی کا ہم سے سوال کرتے ہیں۔اتنا نہیں سمجھتے کہ جب پہلے مخلوق ہوئے تھے تو کس مادہ سے بنائے گئے تھے۔اور اب وہ مادہ کہاں چلا گیا۔