حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 408
حیات احمد ۴۰۸ جلد اول حصہ سوم کثرت سے درود شریف پڑھنے کا وظیفہ بتایا کرتے تھے اور خود بھی کثرت سے درود شریف پڑھتے تھے جب بھی کوئی شخص آپ کی خدمت میں آتا تو آپ اس کی خدمت و تواضع میں اپنی مقدرت کے موافق کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتے تھے۔اس وقت آپ کے وسائل آمدنی محدود اور خاندان میں بوجہ اپنی غزلت پسندی اور خلوت نشینی کے مسنتر مشہور تھے۔اس لئے ایسی حالت میں جو کچھ آپ کے پاس ہوتا۔وہ ان طالبانِ حق کے لئے پیش کر دیتے تھے اور اس میں اپنی ضروریات اور حاجات کا قطعاً خیال نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کے مد نظر وارد ین و صادرین کی خدمت اور آسائش ہوتا تھا۔اور ان کی خدمت کے لئے آپ انتہائی عملی انکساری کے مراتب سے بمسرت و حلاوت گزر جاتے تھے۔وضو کے لئے پانی لا دینایا اور اسی قسم کی خدمات سے آپ کبھی مضائقہ نہ فرماتے۔جیسا کہ ابھی اوپر میں ذکر کر چکا ہوں۔بقیہ حاشیہ: - ملاحظہ مصنوعات ہے۔اور نیز یہ بات بھی کوئی با سمجھ آدمی یقین کرے گا جو پر میشر میں پہلے تو قوت پیدا کرنے کی تھی مگر اب نہیں۔یا وہ قوت اسی قدر تھی جس سے پہلے چند ارواح پیدا ہو چکے اس سے زیادہ نہیں۔قولھم۔جو چیز غیر معدود ہے۔اس کی کمی بیشی کیسے دریافت ہو سکتی ہے۔اقول۔اے حضرات ہم نے تو دس دلیلوں سے ثابت کر دیا ہے کہ ارواح غیر معدود نہیں ہیں۔بلکہ معدود اور محدود ہیں۔پس ضرور کم کرنے سے کم ہوتے جائیں گے۔پھر معلوم نہیں جو آپ کس عالم میں رہتے ہیں جو اب تک کچھ خبر ہی نہیں۔ذرا ہمارے دلائل کا ملا حظہ فرمائیے۔اور اپنے ڈانواں ڈول دل کی تسلی کیجئے۔قولهم نیستی سے ہستی ہونا کوئی عقلمند آدمی نہیں مانے گا۔اقول۔جب کوئی عقلمند اس بات کو مان لے گا جو خدا قادر مطلق ہے۔تو پھر ہرگز اس کی قدرت کو اپنی عقل ناقص کے ساتھ موازنہ نہیں کرے گا۔اور خدائے غیر محدود کی صفات کسی حد میں محدود نہیں جانے گا۔اور نیز عاقل جب دیکھے گا جو خدا بغیر حاجت علت فاعلی اور مادی کے خود بخود موجود