حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 401
حیات احمد ۴۰۱ جلد اول حصہ سوم میں مصروف رہتے تھے۔جائیداد اور زمینداری کے معاملات سے آپ کو کوئی تعلق نہ تھا۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب قبلہ کی وفات کے بعد اگر چہ آپ کو حق حاصل تھا کہ جائیداد کو تقسیم کر لیتے۔اور اپنی حسرت کے ایام کو فارغ البالی سے تبدیل کر لیتے مگر آپ نے اس کی قطعا پر واہ نہ کی اور جائیداد کا انتظام بدستور جناب مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کے ہاتھ میں رہا۔اور کبھی آپ نے دریافت نہ کیا کہ کیا آمدنی ہوتی ہے۔اور کہاں خرچ ہوتی ہے۔ہر فصل پر جب مالیہ وصول ہوتا تو اس وقت کچھ نہ کچھ آپ کو نقدی کی صورت میں مل جا تا مگر وہ بہت ہی قلیل ہوتا۔اور جو کچھ بھی آپ کے پاس آتا اس کو اخبارات کی قیمت اور ڈاک کے اخراجات اور بعض دوسرے لوگوں کی مدد میں خرچ کر دیتے۔بہت ہی کم آپ کی ذات پر خرچ ہوتا تھا۔انہی ایام میں جیسا کہ میں جلد اول کے صفحہ ہے، میں بیان کر چکا ہوں۔آپ نے روزہ کا مجاہدہ شروع کیا۔جو ایک رؤیا کی بناء پر تھا۔جس میں ایک معمر بزرگ نے آپ کو کہا تھا۔کہ و کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنتِ خاندانِ نبوت ہے“ بقیہ حاشیہ : کی دلیلوں کی فرضی بات پر بنیاد ہے۔یعنی اگر یہ ہوگا تو یہ لازم آوے گا۔پس ہم کو ان صاحبوں پر بڑا افسوس ہے۔کیا اُن کو مطلق سمجھ ہی نہیں پر یہ بھی کیونکر کہیں کہ سمجھ نہیں تو دنیا کی اور تندہی کس طرح چلاتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں تعصب بھی عجب ظلمات ہے ورنہ ظاہر ہے کہ ان دلائل کی فرض محال پر بنیاد نہیں ہے۔بلکہ فرض ممکن الوقوع پر مبنی ہیں جو اثبات مطالب کے واسطے ایک عمدہ وسیلہ ہے۔صاحبو آپ لوگوں پر واضح رہے کہ دنیا کے تمام علوم وفنون صرف تین وسائل سے ایجاد ہوئے ہیں۔ایک فرض جس پر باعث نا واقفی کے آپ نے اعتراض کیا۔دوسرا خاصیت۔تیسرا نسبت۔یہ تینوں صفات مفتاح العلوم کہلاتے ہیں۔کسی علم اور صنعت کو سوچ کر دیکھو۔آلہ ایجاد اُس کے کا ان تینوں میں سے کوئی ایک ہوگا۔اب ہم اس کلام کو یہیں چھوڑ کر دوسرے دلائل لکھتے ہیں۔۔موجودہ ایڈیشن کا صفحہ ۱۲۱ تا ۱۲۴