حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 399
حیات احمد ۳۹۹ جلد اول حصہ سوم پڑھتا رہا ہوں۔مگر ایک طرفہ العین کے لئے بھی اُن اعتراضوں نے میرے دل کو مذبذب یا متاثر نہیں کیا۔اور یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔میں جوں جوں اُن کے اعتراضوں کو پڑھتا جاتا تھا۔اسی قدر ان اعتراضوں کی ذلت میرے دل میں سماتی جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور محبت سے دل عطر کے شیشہ کی طرح نظر آتا۔میں نے یہ بھی غور کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جس پاک فعل پر یا قرآن شریف کی جس آیت پر مخالفوں نے اعتراض کیا ہے۔وہاں ہی حقائق اور حکم کا ایک خزانہ نظر آیا ہے۔جو کہ ان بد باطن اور خبیث طینت مخالفوں کو عیب نظر آیا ہے۔“ الحکم۔مورخہ ۳۰ را پریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۲ کالم ۱ تا ۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس بیان سے ایک طرف آپ کی غورگن طبیعت اور پھر پاک فطرت کا پتہ لگتا ہے۔دوسری طرف جو بات اس سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ 66 بقیہ حاشیہ: - جواب دے گا کہ کوئی روح خدا سے بھولا ہوا نہیں اور سب کی تعداد خدا کو معلوم ہے۔پس جبکہ خدا اپنے سچے علم سے جانتا ہے جو کل تعدا دروحوں کی دنیا میں اتنی ہے تو ارواح بے انت نہ رہیں۔اور خود ظاہر ہے کہ جبکہ سلاطین اپنے اپنے ممالک کی مردم شماری کر لیتے ہیں۔تو کیا خدا کو اپنے موجودات کی روح شماری نہیں آتی اور نیز وہ خدا کا ہے کا خدا ہے جس کی نظر سے کوئی روح غائب ہے۔(۷)۔ساتواں ثبوت یہ ہے کہ آیا جتنے روح موجود ہیں وہ سب کے سب مکتی کے شرائط بجالانے سے مکتی پاسکتے ہیں یا نہیں۔اگر پاسکتے ہیں تو فیصلہ ہوا۔اور اگر سب سادہن مکتی کے پورے کر کے بھی مکتی نہیں پاسکتے تو پر میشر دیا لو اور نیا کاری نہ رہا۔(۸)۔آٹھواں ثبوت یہ ہے کہ آیا پر میشور اس بات پر قادر ہے یا نہیں کہ سب ارواح کو مکتی دے دے۔اگر قادر نہیں تو سرب شکتیمان نہ رہا۔اور اگر قادر ہے۔تو سب کی مکتی ہو گئی۔اور کام تمام ہوا۔بعضےصاحبزادے جو بقول شخصے ” لکھے نہ پڑھے نام محمد فاضل“ یوں ہی دوکتا ہیں پڑھ کر قابل