حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 398 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 398

حیات احمد ۳۹۸ جلد اول حصہ سوم آپ کی رات اگر دعاؤں میں اور عبادت میں گزرتی تھی۔تو دن اسی غور و فکر میں گزرتا تھا کہ اسلام کو دوسرے ادیان پر غالب کر کے دکھایا جائے۔اور اس مقصد کے لئے آپ دوسرے مذاہب کی کتابوں کو اور اسلام پر کئے گئے اعتراضات کو ہمیشہ پڑھتے رہتے تھے۔نہ صرف پڑھتے رہتے بلکہ آپ نے ان کو جمع بھی کیا تھا۔مگر افسوس ہے کہ وہ مجموعہ طاعون کے ایام میں جل گیا اور اکثر بڑے بڑے اعتراضات کے جوابات آپ کی تصانیف میں آگئے۔یہ تحریک آپ کو بہت چھوٹی عمر سے ہوئی۔چنانچہ خود آپ نے فرمایا :- میں سولہ سترہ برس کی عمر سے عیسائیوں کی کتابیں پڑھتا ہوں اور ان کے اعتراضوں پر غور کرتا رہا ہوں۔میں نے اپنی جگہ ان اعتراضوں کو جمع کیا ہے۔جو عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں۔ان کی تعداد تین ہزار کے قریب پہنچی ہوئی ہے۔اللہ تعالی گواہ ہے اور اس سے بڑھ کر ہم کس کو شہادت میں پیش کر سکتے ہیں۔کہ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے۔سولہ یا سترہ برس کی عمر سے عیسائیوں کی کتابیں بقیہ حاشیہ: - بن کر زمین پر جنم لیتے ہیں اور زمین محدود ہے۔جس کا محیط ۶۴ ہزار میل سے زیادہ نہیں۔پس جب ظرف محدود ہوا تو مظروف بھی محدود ہو گیا۔اور یہی ثابت کرنا تھا۔(۵)۔پانچواں ثبوت یہ ہے کہ بموجب اصول شاستر کے کل دورہ آمد ورفت ارواح کا پانچ ارب کے اندر اندر ہمیشہ پورا ہو جاتا ہے۔اس سے زیادہ نہیں۔اگر ارواح بے انت ہوتے تو مدت معتین میں اُن کا دورہ کس طرح پورا ہو سکتا۔ایسا دعویٰ کرنا تو محض نادانی ہے۔اس کے لئے مثال ہے۔جیسے کوئی کہے کہ ایک بے انت فوج صرف ایک گھنٹہ کی مدت میں میرے سامنے سے آگے گزرگئی۔سو ایسا آدمی یا تو دیوانہ ہے یا سخت احمق ہے۔کیونکہ اگر وہ فوج بے انت ہوتی تو کیونکر ایک مدت معین تک اُس کے سلسلہ کا انقطاع ہو جاتا۔(۲)۔چھٹا ثبوت اس سوال کا جواب ہے کہ آیا پر میشر نے سب روحوں کو گنا ہوا ہے یا نہیں۔اور ان سب کی اس کو کل میزان معلوم ہے یا نہیں سو ظاہر ہے کہ ہر ایک دانا باستثنابا وانر این سنگھ صاحب کے یہی