حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 395 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 395

حیات احمد ۳۹۵ جلد اول حصہ سوم یادداشت لکھنے کا طریق آپ چونکہ سلطان القلم ہونے والے تھے۔آپ نے جب تحریر کا کام شروع کیا۔آپ کی عادت میں یہ امر داخل تھا کہ آپ جب کسی دشمن کا کوئی اعتراض پڑھتے تو فوراً اسے نوٹ کر لیتے۔اور اس کے جواب کے متعلق بھی اگر کوئی خاص امر خاص طور پر ملحوظ خاطر ہوتا تو لکھ لیتے۔اور یہ طریق آپ کا آخر وقت تک رہا۔اسی طرح آپ اگر کسی کتاب کو پڑھتے یا اخبار کا مطالعہ کرتے اور کوئی امر اس میں ایسا ہوتا کہ کسی موقع پر اس کے ریفرنس کی ضرورت پیش آ سکتی ہے یا کسی مضمون میں اس کا اقتباس دینا ضروری ہے تو آپ اسے بھی نوٹ کر لیتے تھے۔آپ کا یہ بھی بقیہ حاشیہ : - ہر طرف سے رحم ہونا شروع ہو گیا ہے۔چنانچہ اس بارے میں گجرات سے بھی ایک معزز بھائی نے کہ جن کا شکریہ کرنا ہم پر لازم ہے۔اس غمخواری میں ہم پر بھی سبقت کری۔اور تھوڑے لفظوں میں ایسا با معنی اور مدلل جواب الجواب لکھا کہ گویا وہ پرانی مثل کہ کوزہ میں دریا ڈالدیا۔انہی کے واسطے بنی تھی لیکن چونکہ بلحاظ عقول مخاطبین کے اور بھی تفصیل و تشریح کرنا قرین مصلحت ہے۔اور اکثر احباب بھی ہمارے جواب کے منتظر ہیں۔اس واسطے آج میں نے قلم اٹھایا تا اس بارہ میں استیفا کلام کروں۔اور کامل وجوہات سے اخیر فیصلہ دے کر روز کا جھگڑا موقوف کروں۔چنانچہ واسطے صفائی بیان کے پہلے ان دلائل کو بیان کرتا ہوں جن پر ہمارے اعتراض گزشتہ کی بنیاد ہے اور دعویٰ بے انت ہونے ارواح موجودہ کا باطل ہوتا ہے۔اور بعد اس کے ہر ایک مجیب صاحب کے عجیب اقوال بیان کر کے دفع وساوس اور دفع اوہام ان کے کا کروں۔اب جو وجوہات معدود ہونے ارواح اور پختہ ہونے ہمارے اعتراض کے ہیں گنتے جاؤ۔میں ذیل میں بیان کرتا ہوں۔(۱)۔اس بات سے کسی عاقل کو انکار نہیں ہو سکتا کہ خدا کو کل وہ ارواح معلوم ہیں جو آخر کار کسی دن مکت ہو جائیں گے کیونکہ اگر اس کو مکت ہونے والے ارواح معلوم نہیں تو عالم الغیب نہ رہا۔اور اگر یہ حال ہے کہ معلوم تو تھے مگر مطابق علم اُس کے کے وہ سب ارواح معلومہ مکت نہ ہوئے تو