حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 30 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 30

حیات احمد جلد اوّل حصہ اول اس خاکسار کا سراپنی ران پر رکھ لیا۔اور عالم خاموشی میں ایک غمگین صورت بنا کر بیٹھے رہے۔اسی روز سے مجھ کو اس خونی آمیزش کے تعلق پر یقین کلی ہوا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِك۔غرض میرے وجود میں ایک حصہ اسرائیلی ہے۔اور ایک حصہ فاطمی۔اور میں دونوں مبارک پیوندوں سے مرکب ہوں۔اور احادیث اور آثار کو دیکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ آنے والے مہدی آخرالزمان کی نسبت یہی لکھا ہے۔کہ وہ مرکب الوجود ہو گا۔ایک حصہ بدن کا اسرائیلی اور ایک حصہ محمدی کیونکہ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ جیسا کہ آنے والے مسیح کے منصبی کاموں میں بیرونی اور اندرونی اصلاح کی ترکیب ہے یعنی یہ کہ وہ کچھ مسیحی رنگ میں ہے اور کچھ محمدی رنگ میں کام کرے گا۔ایسا ہی اس کی سرشت میں بھی ترکیب ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۱۶ تا ۱۱۸ ) سر لیپل گریفن کی شہادت سرلیپل گریفن جو ابتدا میں مسٹر گریفن تھا۔اور ضلع گورداسپور کا ڈپٹی کمشنر رہ چکا ہے اور بعد میں بھوپال وغیرہ ریاستوں کا مشہور ریذیڈنٹ رہا۔اس نے رئیسان پنجاب ایک مشہور کتاب لکھی تھی اس میں اس خاندان کا تذکرہ ان الفاظ میں لکھا ہے۔”شہنشاہ بابر کے عہد حکومت کے آخری سال یعنی ۱۵۳۰ء میں ایک مغل مستمی ہادی بیگ باشندہ سمر قند اپنے وطن کو چھوڑ کر پنجاب میں آیا۔اور ضلع گورداسپور میں بودوباش اختیار کی۔یہ کسی قدر پڑھا لکھا آدمی تھا اور قادیان کے گرد و نواح کے ۸۴ مواضعات کا قاضی یا مجسٹریٹ مقرر کیا گیا۔کہتے ہیں کہ قادیان اس نے آباد کیا اور اس کا نام اسلام پور قاضی رکھا جو بدلتے بدلتے قادیاں ہو گیا۔کئی پشتوں تک یہ خاندان شاہی ، شاہی عہد حکومت میں معزز عہدوں پر ممتاز رہا۔اور محض سکھوں کے عروج کے زمانہ میں یہ افلاس کی حالت میں ہو گیا تھا۔گل محمد اور اس کا بیٹا عطا محمد رام گڑھیہ اور کنھیا مسلوں سے جن کے قبضے میں قادیاں کے گرد و نواح کا علاقہ تھا ہمیشہ لڑتے وہ دراصل ایک نہایت ذی علم بزرگ تھا۔(مرتب)