حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 387 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 387

حیات احمد ۳۸۷ جلد اول حصہ سوم تھی جبکہ وہ دہلی حضرت صاحب کے ساتھ شریک برات ہو کر گئے ہیں۔بلکہ یہ بھی مشہور ہو گیا تھا کہ انہوں نے بھی وہاں شادی کر لی ہے۔غرض یہ دوستانہ مجالس اور تبادلہ خیالات کی صحبتیں عجب شان رکھتی تھیں۔اور آپ کی غرض و غایت سوائے اس کے کچھ نہ تھی کہ اسلام کا بول بالا ہو۔اور جو لوگ اب تک اس نعمت سے محروم ہیں۔وہ اسلام کی طرف آجا دیں خلاصہ یہ کہ ان حالات اور خیالات میں آپ زندگی کے یہ ایام گزار رہے تھے۔اور اس طرح پر آپ کی طبیعت پر مجتہدانہ رنگ غالب آچکا تھا۔آپ ہر مسئلہ اور ہر عقیدہ پر جو نظر کرتے تھے۔وہ معاندانہ نہیں ہوتی تھی بلکہ اس میں پورے فکر و اجتہاد سے کام لے کر فراست مومنانہ و نور متقیانہ سے ایک رائے قائم کرتے تھے۔جہاں تک اعمال کا تعلق ہوتا تھا آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت صحیحہ کی پوری اتباع کرتے تھے۔اور جہاں عقائد کی حقیقت اور اصلیت کا سوال آتا تھا۔وہاں قرآن مجید کے دلائل آپ مقدم کرتے اور ان دلائل کو علوم صحیحہ کی روشنی میں پیش کرتے تھے۔مذہبی غیرت کو کبھی اور کسی حال میں ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور دوسروں کے جذبات کو مجروح کرنے سے مضائقہ فرماتے۔البتہ اس میں کبھی مضائقہ نہ فرماتے تھے کہ باطل عقیدہ کی شناخت پورے طور پر ظاہر کر دی جاوے۔مثلاً مشرکوں کی تردید جب مد نظر ہوتی تو فرماتے۔خویشتن را مکش بترک حیا بخدا بنده زاده نیست خدا آنکه مخلوق است و هم فانی ہم حیف باشد گرش خدا خوانی* اس طرح پر آپ اس عقیدہ کے نقص کا اظہار فرماتے اور یہی مقصد ہوتا نہ کچھ اور۔ترجمہ:۔) حیا کو چھوڑتے ہوئے اپنے آپ کو مت مار خدا کی قسم بندہ کبھی بھی خدا نہیں بن سکتا۔P) جو شخص مخلوق اور فانی ہے یہ کتنے افسوس کی بات ہے اگر تو اسے خدا سمجھے۔