حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 385 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 385

حیات احمد ۳۸۵ جلد اول حصہ سوم ہے۔ایک مرتبہ لالہ شرمپت رائے صاحب اور دوسرے بعض ہندوؤں نے فونوگراف سننا چاہا۔فونوگراف اوّل ہی اوّل قادیان میں حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے منگوایا تھا۔یہ لوگ نواب صاحب سے براہِ راست تو درخواست کرنے کی جرات نہ کر سکتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر انہیں پورا اعتماد تھا کہ وہ منگوادیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور آپ نے اس تقریب کے لئے فورا ایک نظم لکھی جو آواز آرہی ہے یہ یہ فونو گراف ڈھونڈ و خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے ނ سے شروع ہوتی۔اور ایک ریکارڈ میں پنڈت لیکھ رام کے متعلق پیشگوئی کی نظم :۔عجب نوریست در جان محمد عجب لعلیست در کان محمد بھروا دی۔اور ان سب کو بلا کر یہی ریکارڈ سنائے گئے۔میں نے اس واقعہ کا ذکر صرف لالہ شرمپت رائے صاحب کے اس قول کی تائید میں کیا ہے۔ورنہ اس کے لئے ایک دوسرا مقام ہے اور ور تفصیل سے اسی جگہ ذکر ہو گا۔غرض آپ اپنی اُن ایام کی شعر گوئی سے بجز اس کے اور کوئی مطلب نہ رکھتے تھے۔یہ کلام عام طور پر فارسی میں ہوتا تھا۔اور کبھی کبھی اردو کے اشعار بھی کہتے تھے مگر بہت ہی کم لیکن ان اشعار میں بھی آپ کا مقصد وہی امور ہوتے تھے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔اور کسی کسی شعر سے اس طبقہ اور گروہ کا بھی پتہ لگتا ہے جس میں آپ اس وقت رہتے تھے۔مثلاً فرماتے ہیں۔کوئی راضی ہو یا ناراض ہووے رضا مندی خدا کی مدعا کر اس شعر میں اُس کیفیت کو کس خوبی سے بیان کیا ہے جو اُس وقت لاحق حال تھی۔نیز اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی رضا مندی کے حصول کے لئے آپ کسی کی ناراضی یا رضامندی کی پرواہ ہی نہیں کرتے تھے۔اس کی تائید میں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں۔دلبر کی راہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے ہوشیار ساری دنیا اک باولا یہی ہے ا ترجمہ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان میں ایک عجیب نور ہے محمدؐ کی کان میں ایک عجیب و غریب لعل ہے۔