حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 375
حیات احمد ۳۷۵ جلد اول حصہ سوم سیالکوٹ میں حضرت کو دیکھا ہوا تھا۔اور جب آپ نے دعویٰ کیا۔تو انہوں نے آمَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہا۔اگر وہ آپ کی پاکیزہ زندگی ، آپ کے زہد و انتقاء آپ کے اسلامی خادم و جانثار ہونے کے علی وجہ البصیرت شاہد نہ ہوتے تو کبھی قبول نہ کرتے۔حضرت حکیم میر حسام الدین صاحب اور اُن کے خاندان کا حلقہ ارادت میں داخل ہونا حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جیسے عالم اور آزاد خیال عالم کا اخلاص وعقیدت کے ساتھ آپ کو ایسا قبول کرنا کہ ہر قسم کی قربانی کے لئے آمادہ ہو گئے بلکہ کر کے دکھا دی۔یہ ایسی باتیں نہیں ہیں کہ کسی مفتری اور مزورکو میسر آ سکیں۔وہ لوگ آپ کے حالات کو جانتے تھے۔آپ کی راست بازی، دیانت اور تقویٰ سے واقف تھے۔انہوں نے اس درد اور جوش کو بچشم خود دیکھا تھا۔جو آپ اسلام کے لئے رکھتے تھے۔اس غیرت اسلامی کو انہوں نے محسوس کیا تھا۔جو تحفظ ناموسِ سرور عالم کے لئے آپ کے دل میں تھی۔اس لئے جب آپ نے دعوی کیا کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اُن لوگوں نے اسے صادق سمجھا۔اور صادق یقین کر کے اس کے ساتھ ہوئے۔“ پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کے مباحثہ کے متعلق کچھ اور اگر چہ پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کے مباحثہ کے متعلق میں پہلے کچھ لکھ چکا ہوں لیکن ایک ضروری امر رہ گیا۔خود حضرت مسیح موعود کا ایک نوٹ نفس مباحثہ کے متعلق مجھے مل گیا اور میں اس پرانی تحریروں کے سلسلہ میں وہ مضمون بھی شائع کر چکا ہوں۔جو دورانِ مباحثہ میں حضرت نے پیش کیا تھا۔مگر یہاں میں اُس نوٹ کو جو گو یا خلاصہ روئیداد مباحثہ ہے۔اوّل درج کرتا ہوں اور بَعْدَهُ اُس نوٹ کی بناء پر جو روئیداد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بطور تحدی شائع کی تھی اُس کو درج کر دیتا ہوں۔اور اس طریق سے آپ نے آریہ سماج پر اب تیسری مرتبہ حجت پوری کی تھی۔پہلی دفعہ تو خود پنڈت دیانند صاحب کو مباحثہ کے لئے بلایا۔اور باوجود وعدہ کے وہ مقابلہ پر نہ آئے۔پھر روحوں کے بے انت ہونے کے مسئلہ پر تحریری مباحثہ ہوتا رہا۔جس کا ذکر میں حصہ دوم میں کر آیا