حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 376 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 376

حیات احمد جلد اول حصہ سوم ہوں۔اور تیسری مرتبہ اب پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کے ذریعہ اتمام حجت ہوا۔اور آریوں کو اس مقابلہ کی تاب نہ ہوئی۔اور کھڑک سنگھ صاحب کا تو جو انجام ہوا۔وہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔اب میں اولاً اس نا تمام نوٹ کو جو بطور خلاصہ روئیداد آپ نے لکھا تھا درج کرتا ہوں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تمہید جس میں پانسو روپیہ کا اشتہار بھی درج ہے ناظرین انصاف آئین کی خدمت بابرکت میں واضح ہو کہ چند روز ہوئے ہیں کہ پنڈت کھڑک سنگھ صاحب ممبر آریہ سماج امرتسر گورداسپور بغرض بحث امرتسر سے یہاں قادیان تشریف لائے۔اور باسترضائے فریقین یہ بات ٹھہری کہ مسئلہ تناسخ اور مقابلہ وید وقرآن میں گفتگو کی جاوے۔چنانچہ جلسہ منعقد ہو کر اول ہم نے ایک تقریر جو ذیل میں لکھی گئی ہے۔پیش کی۔یہ تقریر میں پرانی تحریروں کے سلسلہ میں شائع کر چکا ہوں۔عرفانی) اور جواب طلب کیا۔پنڈت صاحب نے فرمایا۔کل ان سوالات کا جواب دیں گے۔جب دوسرے دن پھر جلسہ منعقد ہوا۔اور سوالات کا جواب طلب کیا گیا۔تو پنڈت صاحب نے سوالات کو چھوڑ کر کچھ اور ہی رکتھا سنانی شروع کر دی۔جس کا سوالات سے کچھ بھی تعلق نہ تھا۔آخر عرض کیا گیا کہ اگر بحث منظور ہے۔تو برعایت آداب مناظرہ سیدھا جواب دینا چاہیئے۔ہم سوال کوئی کرتے ہیں۔اور آپ کی زبان سے جواب کوئی نکلتا ہے۔اس پر پنڈت صاحب نے بجائے اس کے کہ کسی بات کا مدلل جواب دیتے۔پھر وہی سکتے قصے اور حکایات کہ جن کو معقول بحث میں پیش کرنا سادہ لوحی کے علامات سے ہے لے بیٹھے کہ جن سے پنڈت صاحب کے کمالات علمی بکی معلوم ہوئے۔مکرر عرض کیا گیا کہ اگر ہوسکتا ہے تو کچھ جواب دیجئے گا۔ورنہ ہم رکتھا سننے کے واسطے تو نہیں آئے۔اس پر پنڈت صاحب نے طیش میں آکر اور شیخی مار