حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 371
حیات احمد ۳۷۱ جلد اول حصہ سوم صاحب حاجات جیسے اہلکاروں کے پاس جاتے ہیں۔اُن کی خدمت میں بھی آجایا کرتے تھے۔اسی عمرا مالک مکان کے بڑے بھائی فضل الدین نام کو جو فی الجملہ محلہ میں موقر تھا، آپ بلا کر فرماتے۔میاں فضل الدین ان لوگوں کو سمجھا دو کہ یہاں نہ آیا کریں۔نہ اپنا وقت ضائع کیا کریں۔اور نہ میرے وقت کو برباد کیا کریں۔میں کچھ نہیں کر سکتا۔میں حاکم نہیں۔جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے کچہری میں ہی کر آتا ہوں۔فضل الدین ان لوگوں کو سمجھا کر نکال دیتے۔مولوی عبدالکریم صاحب بھی اسی محلہ میں پیدا ہوئے۔اور جوان ہوئے۔جو آخر میں مرزا صاحب کے خاص مقربين میں شمار کئے گئے۔اس کے بعد وہ مسجد جامع کے سامنے ایک بیٹھک میں بمع منصب علی حکیم کے رہا کرتے تھے۔وہ ( یعنی منصب علی۔خاکسار مؤلف ) وثیقہ نویسی کے عہدہ پر ممتاز تھے۔بیٹھک کے قریب ایک شخص فضل دین نام بوڑھے دوکاندار تھے۔جو رات کو بھی دوکان پر ہی رہا کرتے تھے۔ان کے اکثر احباب شام کے بعد ان کی دوکان پر آجاتے تھے۔چونکہ شیخ صاحب پارسا آدمی تھے۔اس لئے جو وہاں شام کے بعد آتے سب اچھے ہی آدمی ہوتے تھے۔کبھی کبھی مرزا صاحب بھی تشریف لایا کرتے تھے۔اور گاہ گاہ نصر اللہ نام عیسائی جو ایک مشن سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے آ جایا کرتے تھے۔مرزا صاحب اور ہیڈ ماسٹر کی اکثر بحث مذہبی امور میں ہو جاتی تھی۔مرزا صاحب کی تقریر سے حاضرین مستفید ہوتے تھے۔مولوی محبوب عالم صاحب ایک بزرگ نہایت پارسا اور صالح اور مرتاض شخص تھے۔مرزا صاحب ان کی خدمت میں بھی جایا کرتے تھے۔اور لالہ بھیم سین صاحب وکیل کو بھی تاکید فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کرو چنانچہ وہ بھی مولوی صاحب کی خدمت میں کبھی کبھی حاضر ہوا کرتے تھے۔