حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 372
حیات احمد جلد اول حصہ سوم جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہوتا تو مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو خود سعی اور محنت کرنی چاہئے۔اللہ فرماتا ہے۔وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: ۷۰) - مولوی محبوب عالم صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔دینیات میں مرزا صاحب کی سبقت اور پیشروی تو عیاں ہے۔مگر جسمانی دوڑ میں بھی آپ کی سبقت اس وقت کے حاضرین پر صاف ثابت ہو چکی تھی۔اس کا مفصل حال یوں ہے کہ ایک دفعہ کچہری برخاست ہونے کے بعد جب اہلکار گھروں کو واپس ہونے لگے تو اتفاقاً تیز دوڑنے اور مسابقت کا ذکر شروع ہو گیا۔ہر ایک نے دعوی کیا کہ میں بہت دوڑ سکتا ہوں۔آخر ایک شخص بلا سنگھ نام نے کہا کہ میں سب سے دوڑنے میں سبقت لے جاتا ہوں۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ میرے ساتھ دوڑو۔تو ثابت ہو جائے گا کہ کون بہت دوڑتا ہے۔آخر شیخ اللہ داد صاحب منصف مقرر ہوئے اور یہ امر قرار پایا کہ یہاں سے شروع کر کے اُس پل تک جو کچہری کی سڑک اور شہر میں حد فاصل ہے ننگے پاؤں دوڑو۔جوتیاں ایک آدمی نے اٹھا لیں اور پہلے ایک شخص اُس پل پر بھیجا گیا تا کہ وہ شہادت دے کہ کون سبقت لے گیا اور پہلے پل پر پہنچا۔مرزا صاحب اور بلا سنگھ ایک ہی وقت میں دوڑے اور باقی آدمی معمولی رفتار سے پیچھے روانہ ہوئے۔جب پل پر پہنچے تو ثابت ہوا کہ حضرت مرزا صاحب سبقت لے گئے۔اور بلا سنگھ پیچھے رہ گیا۔“ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔میں نے ان واقعات اور حالات کو بطور ایک وقائع نگار کے لکھ دیا ہے۔مرزا موحد سے ملاقات مرزا مراد بیگ صاحب جالندھر کے رہنے والے تھے۔ان کا تخلص ابتداء مرزا شکستہ تھا لیکن بعد میں جب عیسائیوں کے ساتھ مباحثات کا سلسلہ انہوں نے وسیع کیا۔اور عیسائیت کی تردید میں