حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 368
حیات احمد ۳۶۸ جلد اول حصہ سوم ہوں۔پنڈت دیا نند صاحب سے خط و کتابت کی اور ان پر اتمام حجت براہ راست کر کے اسلام کا غلبہ ثابت کیا۔برہمو سماج کے پنجابی لیڈروں کو بھی مخاطب کیا۔ان کے اخبارات اور تصانیف کا بھی بغور مطالعہ کیا اور کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ کوئی بات بغیر کامل تحقیق اور غور کے پیش کر دیں۔ہمیشہ اس معاملہ میں خدا تعالیٰ کا خوف اور اظہار حق آپ کو مدنظر تھا۔عیسائیوں کا فتنہ تو ان سے بھی پہلے ملک میں پھیل رہا تھا۔اور اسلام کی مخالفت میں بہت سی کتابیں نہایت دل آزار طریق پر لکھی جا چکی تھیں۔ولایتی اور دیسی پادریوں (جن میں سب سے بڑا حصہ ان مرتدین کا تھا جنہوں نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کی تھی ) نے بڑی بڑی ضخیم کتا ہیں لکھ کر ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر نہایت دل آزار اور گستاخانہ حملے کئے تھے۔اور ان کتابوں کی ابتدا ۱۸۴۵ء کے قریب سے ہوتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان تمام کتابوں کو پڑھا تھا۔اور آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے ناموس کے تحفظ اور الزامات کے دفاع کے لئے قلم ہاتھ میں لیا۔یہ سلسلہ قادیان ہی میں آ کر شروع نہیں ہوا بلکہ جن ایام میں آپ سیالکوٹ رہتے تھے۔اس وقت بھی پادریوں سے مباحثات ہوتے رہتے تھے۔چنانچہ میں جلد اوّل میں سیالکوٹ کے ولایتی پادری ٹیلر اور الیشع سے مباحثات کا ذکر کر چکا ہوں۔اور عیسائی مذہب کی چھان بین کے متعلق میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس واقعہ کا بھی ذکر جلد اول میں کیا ہے۔جو میزان الحق کے متعلق موضع خیر دی میں اس وقت پیش آیا جبکہ آپ حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے تھے۔القصہ عیسائیوں کا فتنہ زوروں پر تھا۔حکومت کے ابتدائی ایام کی وجہ سے لوگوں کی حالت کچھ اور تھی۔اور پادریوں کا رسوخ اور اثر سیاسی رنگ رکھتا تھا۔اس لئے نہایت خطرناک حملے اسلام پر ہوتے تھے۔قادیان میں بعض اوقات کوئی مسیحی مبلغ آ جاتا تھا۔مگر وہ ٹھہر تے نہ تھے۔اور حضرت صاحب کا رعب ان پر اس قدر غالب تھا کہ وہ آپ سے مباحثہ نہیں کرتے تھے بلکہ بازار میں منادی کر کے فوراً چلے جاتے تھے۔