حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 367
حیات احمد جلد اول حصہ سوم کیا ہے کہ لوگوں کو دے دیا کرتے تھے۔مرزا دین محمد صاحب لنگر وال والے بھی یہی بیان کرتے ہیں۔اور دوسرے ذرائع سے بھی یہی ثابت ہے آپ کے پاس جو کھانا آتا تھا۔اسے بھی دوسروں پر تقسیم کر دیتے تھے۔اور با ایں کبھی کسی قسم کی شکایت یا افسوس کا اظہار نہ ہوتا تھا۔یہ نہ تھا کہ آپ نقد روپیہ مانگتے تو آپ کو ملتا نہ تھا۔مگر آپ میں شان استغناء اس قدر بلند تھی کہ آپ سوال کرتے ہی نہ تھے حالانکہ اپنے گھر اور جائیداد میں سے لینا ہوتا تھا۔حضرت بڑے مرزا صاحب جو دے دیتے وہ لے لیتے۔اور اگر انہیں خیال نہ گزرے تو آپ کو پرواہ بھی نہ ہوتی تھی۔سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور دنیا کے تنعمات سے آپ کو کوئی تعلق ہی نہ تھا۔آپ کی ساری مصروفیت اور شغل اعلائے کلمتہ اللہ تھا اور اس کے لئے اخبارات میں مضامین کا سلسلہ جاری تھا۔بعض خطوط آتے ان کا جواب دیتے اور بعض لوگ قادیان آ جاتے اور زبانی سوال و جواب کرتے۔خود قادیان کے لوگ بھی آپ کی مجلس میں مذہبی مذاکرات کا سلسلہ رکھتے تھے۔غرض آپ کے یہ ایام ایک طرف نہایت عسرت اور تنگی کے ایام تھے۔جائیداد کی تمام آمدنی جناب مرزا غلام قادر صاحب کے ہاتھ میں جاتی تھی۔گو انہیں آپ کی ضروریات کے لئے خرچ کرنے میں خوشی ہوتی مگر چونکہ حضرت مرزا صاحب کی طبیعت اپنی ضرورتوں کو کسی عزیز سے عزیز کے سامنے پیش کرتے ہوئے بھی کراہت کرتی تھی۔اس لئے آپ اپنی جان پر ہر تنگی کو برداشت کر لیتے۔دوسری طرف آپ اشاعتِ اسلام اور دشمنانِ اسلام کے الزامات اور اعتراضات کی مدافعت کے لئے دل میں جوش رکھتے تھے۔اس لئے فقر و فاقہ کے ساتھ آپ کے اوقات یا عبادات میں گزرتے تھے اور یا مجاہدات دینی میں۔آریہ سماج اور برہمو سماج کا نیا نیا آغاز تھا اور ملک میں عام طور پر ان جدید تحریکوں کے متعلق ایک جوش پایا جاتا تھا اس لئے آپ اس سے غافل نہ تھے۔ویدوں کے متعلق صحیح علم حاصل کرنے کے لئے آپ نے دہلی سوسائٹی اور دوسرے ذی علم لوگوں کے ترجمہ اور تنقیدات کا بغور مطالعہ کیا اور خود آریہ سماج کے بانی پنڈت دیانند کی تحریروں کو خوب غور سے پڑھا اور اس کے متعلق جو تحقیقات کا حق تھا ادا کیا اور اس کے بعد قلم اٹھایا اور جیسا کہ میں جلداول میں لکھ چکا