حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 366 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 366

حیات احمد جلد اول حصہ سوم دیتے۔اس وجہ سے ان ایام میں آپ پر روپیہ کے لحاظ سے تنگی کا زمانہ تھا۔اور مجھے اس کے کہنے میں ذرا بھی افسوس نہیں کہ آپ پر بے حد تنگی کا زمانہ تھا لیکن باوجود اس مسرت کے آپ کی فیاضی اور فراخدلی کے علاوہ شانِ استغناء نمایاں تھی۔آپ گھر کے کسی بزرگ سے کبھی کسی قسم کا سوال نہیں کرتے تھے۔اور جو کچھ آتا اسے اپنے خدام کے ساتھ مل کر کھا لیتے مرزا اسمعیل بیگ صاحب جنہوں نے بچپن سے آپ کے آخری عہد زندگی تک خدمت کی کہتے ہیں کہ میں گھر سے سات روٹیاں لایا کرتا تھا۔چار آپ کے لئے اور تین اپنے لئے۔ان چار میں سے آپ کے حصہ میں ایک روٹی بھی نہیں آیا کرتی تھی۔مرزا معیت بیگ صاحب کے دو بیٹے عنایت بیگ اور ولایت بیگ تھے۔ان میں سے ولایت بیگ سگ دیوانہ کے کاٹنے سے مر گیا تھا۔کھانے کے وقت عین وقت مقررہ پر عنایت بیگ آتا اور دروازہ کھٹکھٹاتا تھا۔حضرت کا طریق تھا کہ ہمیشہ دروازہ بند کر کے رکھا کرتے تھے۔اور میں کھولدیتا۔تو آپ ایک روٹی اور دو بوٹیاں اس کو دے دیتے تھے۔اور وہ وہیں بیٹھ کر کھا لیتا۔حضرت کھانے میں دیر کرتے۔پھر وہ چلا جاتا اور میں دروازہ بند کر دیتا۔تھوڑی دیر کے بعد پھر دستک ہوتی اور میں دروازہ پر جاتا تو حسینا کشمیری موجود ہوتا۔اس کو اندر آنے کی اجازت ملتی۔ایک روٹی اور ایک بوٹی اسے دی جاتی اور وہ بھی وہاں ہی بیٹھ کر کھا کر چلا جاتا۔پھر اس کے بعد جمال کشمیری آ جاتا۔اسے بھی ملتی۔پھر حافظ معین الدین آتا اسے ملتی۔اور اس طرح پر آپ اپنا سارا کھانا دے دیتے اور خود تھوڑا سا شور با پی لیتے۔میں ہر چند اصرار کرتا مگر میری روٹی میں سے نہ کھاتے اور وہ مجھے دے دیتے۔میرے اصرار کرنے پر بھی گھر سے اور روٹی نہ منگواتے اور نہ میری روٹی میں سے کھاتے۔کبھی جب میں ایسی ضد کرتا کہ اگر آپ نہیں کھاتے تو میں بھی نہیں کھاتا۔تو تھوڑی سی کھا لیتے۔اور ایسا ہی شام کو ہوتا۔البتہ شام کو ایک پیسے کے چنے منگوا کر کچھ آپ چبالیتے۔گریاں میں آپ کو دے دیتا۔باقی میں خود کھا لیتا۔ایسا ہی کبھی چائے بنوا کر اور مصری ڈال کر پی لیتے۔مرزا اسمعیل صاحب کہتے ہیں کہ یہ عام طریق تھا۔غفارہ نے بھی کھانے کے متعلق یہی بیان