حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 364 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 364

حیات احمد ۳۶۴ جلد اول حصہ سوم میری غیر حاضری میں مقدمہ پیش ہو گیا۔میری حیرت کی حد نہ رہی جب مقدمہ خارج ہو گیا۔مجھے افسوس ہوا کہ میں مفت میں کامیابی کا حقدار ہوتا۔مگر اب وقت گزر گیا تھا۔شیخ علی احمد صاحب اس واقعہ کو بیان کرتے وقت حضرت صاحب کی مستقل مزاجی اور راست بازی کی بے حد تعریف کرتے تھے۔ان کے تعلقات اس خاندان سے مرتے دم تک رہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر ہر مقدمہ میں ان سے مشورہ لینا پسند فرمایا کرتے تھے۔اور ان کا احترام کرتے تھے۔الغرض مباحثات تحریری اور تائید اسلام کے متعلق مضامین کے لمبے سلسلہ میں یہ ایک واقعہ بھی پیش آ گیا۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کی وفات پر ایک سال یا کچھ زائد عرصہ گزرا تھا جبکہ یہ واقعہ پیش آیا۔مگر اس مقدمہ نے آپ کی ہمت کو پست نہیں کیا اور نہ آ نے اس سلسلہ مضامین نویسی کو بند کیا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ جوش کے ساتھ یہ سلسلہ جاری رہا اور دن بدن بڑھتا چلا گیا۔جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی وفات ہو چکی تھی۔اور اب گھر کا تمام انتظام آپ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کے ہاتھ میں تھا۔تمام جائیداد کا وہی انتظام فرماتے اور ہر قسم کی آمدنی ان کے ہی ہاتھ میں ہوتی تھی۔بڑے مرزا صاحب پھر بھی کچھ خیال خاص طور پر رکھتے تھے۔اور اسی لئے طبعی طور پر آپ کو ان کی وفات پر بعض تفکرات معیشت کی طرف سے تھے۔جس پر خدا تعالیٰ نے آپ کو اليْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کے الہام میں تسلی دی تھی۔اس تسلی کے بعد آپ کا رنگ پہلے سے بھی زیادہ بدل گیا۔اور آپ ایک کامل متوکل کی زندگی بسر کرنے لگے تھے۔مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ عسرت کی زندگی تھی۔میں آگے چل کر اس پر کسی قدر وضاحت سے لکھوں گا۔آپ کے ہاتھ میں کیا آتا تھا۔اور کس طرح خرچ کرتے تھے۔اس کے لئے میں جناب مرزا غلام قادر مرحوم کا ایک رقعہ درج کرتا ہوں۔برخوردار برادر عزیز غلام احمد بعد السلام علیکم۔ایک گز سوسی بستنی ارسال ہوتی ہے اور خرچ سابق گھر میں بھیجا گیا ہے۔روغن زرد اور جھونہ متعاقب پہنچے گا۔صافہ بھی متعاقب بھیجا جاوے گا۔میں بروز ایتوار انشاء اللہ تعالیٰ۔