حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 360
حیات احمد جلد اول حصہ سوم پنڈت شونرائن صاحب نے اس خط و کتابت کو شائع کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پنڈت شونرائن صاحب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک برہمو اور ایک کسی انگریز کو اس معاملہ میں منصف مقرر کر کے ان کے فیصلہ کے ساتھ شائع کر دیں اور آپ نے کشیپ چندرسین صاحب کا نام تجویز بھی کر دیا تھا۔مگر واقعہ یہ ہے کہ پنڈت شو نرائن صاحب نے کسی کو منصف اور حکم نہ بنایا۔اور اس خط و کتابت کو شائع کر دیا۔اس سے بحث نہیں۔کہ انہوں نے کیوں ایسا کیا۔مگر یہ حقیقت اب مخفی نہیں۔قریباً پچاس برس کا زمانہ اس پر گزر گیا ہے۔اس کے بعد پنڈت شونرائن صاحب اگنی ہوتری کی زندگی میں ایک تغیر ہوا۔اور وہ یہ کہ انہوں نے برہم سماج سے استعفیٰ دے دیا اور آپ ایک اور مشن دیو سماج کے بانی ہوئے۔اور یہ دعویٰ کیا کہ خدا تعالیٰ ان سے ہمکلام ہوتا ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں انہوں نے متعدد کتب لکھیں۔کیا یہ خدائی ہاتھ نہیں کہ جو شخص الہام الہی کا منکر تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس مضمون پر بحث کرتا تھا۔اور براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت اس پر اس نے مخالفانہ ریویو کر کے اعتراضات کئے۔(اس کا ذکر براہین احمدیہ کی اشاعت کے ضمن میں آئے گا) وہی خود الہام الہی کا مدعی ہوا۔یہ ایک کھلم کھلا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فتح تھی۔یہ دھوئی ملا تھا یا صحیح اس وقت اس کی تحقید پر بحث نہیں بلکہ صرف اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ اس شخص نے منکرِ الہام ہو کر بحث کی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے اور اپنے درمیان اس کے مقبولہ اشخاص کو حکم بنانا تسلیم کر لیا۔بلکہ ایک ان میں سے خود براہم سماج ہی کا گویا بانی تھا۔مگر اس نے اس سے عملاً پہلو تہی کیا۔اس طرح پر یہ فیصلہ مشکوک ہو سکتا تھا کہ کون حق پر ہے۔مگر اس نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دلائل زبر دست اور حق پر مبنی تھے۔چنانچہ وہ ایک عرصہ دراز تک اس عقیدہ کے ساتھ اپنی سماج کا اعلان کرتا رہا۔پنڈت کھڑک سنگھ صاحب نے تو اپنی شکست اور آریہ سماج کے باطل ہونے کا اعتراف عیسائی ہو کر کیا۔اور اگر وہ