حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 359
حیات احمد ۳۵۹ جلد اول حصہ سوم کریں۔اور جو کچھ طرف ثانی کے کلام کا حوالہ دیں اس کی تصدیق کے لئے اس کے کلام کو ٹھیک ٹھیک اُسی کے الفاظ میں پیش کریں۔کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے کے کام کو ایک شخص یا تو خود نہیں سمجھتا یا بصورت سمجھنے کے جان بوجھ کر اس کی طرف سے اول ایک فرضی بات گھڑ کر تیار کر لیتا ہے۔اور پھر اس کی تردید کر کے لوگوں میں خوش ہو ہو کر ظاہر کرتا ہے کہ طرف ثانی کو اس نے پسپا کر دیا حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔پس جو طریق ہم نے اوپر ظاہر کر دیا ہے اس کے موافق اہلِ آریہ میں سے کوئی صاحب اگر مضمون رقم کر کے کسی اخبار کے ذریعہ مشتہر کریں گے تو اس سے حق امر بھی ظاہر ہو جائے گا اور لوگ بھی مستفید ہوں گے۔ورنہ مفت کی بے سرو پا اور بے ڈھنگی بکواس کا سلسلہ قائم رکھنا عقلمندوں کے نزدیک ایک حرکت لغو شمار کی جاتی ہے۔(ایڈیٹر ) بر ہمو سماج سے مباحثہ کی ابتدا اس وقت تک آپ کے تحریری مباحثات آریہ سماج سے ہو رہے تھے۔اور عیسائیوں سے بھی قلمی جنگ شروع تھی۔اس لئے کہ لدھیانہ کے عیسائی اخبار نور افشاں میں اسلام اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کے خلاف نہایت دل آزار اور غیر شریفانہ مضامین اور اعتراضات کا سلسلہ شروع تھا۔آپ نے ان کے جوابات کے لئے اخبار منشور محمدی بنگلور کو منتخب کیا جو اسی غرض کے لئے جاری ہوا تھا۔آپ کے مضامین اس میں نکلنے شروع ہوئے۔اور عیسائی کیمپ میں ایک شور مچا۔اس کا ذکر میں بعد میں کروں گا۔اس وقت برا ہم سماج سے مباحثات کے سلسلے کے متعلق لکھنا چاہتا ہوں۔اس لئے بھی کہ واقعات کے سلسلہ کی زنجیر یہی چاہتی ہے۔لاہور میں براہم سماج قائم ہو چکا تھا۔اور پنڈت شو نرائن اگنی ہوتری ( جو لاہور کے گورنمنٹ سکول میں اُس وقت ڈرائینگ ماسٹر تھے ) براہم سماج کے بہت بڑے لیڈر اور ہندو باندھو کے مالک وایڈیٹر تھے۔براہم سماج وحی ، نبوت اور الہامِ ربانی کا قائل نہیں۔حضرت اقدس کے مضامین ہندو باندھو میں شائع ہو رہے تھے۔اسی سلسلہ میں مسئلہ الہام پر اس براہمولیڈر سے خط وکتابت کا سلسلہ برنگ مباحثہ جاری ہو گیا۔اور یہ سلسلہ ۲۱ رمئی ۱۸۷۹ء سے ۷ ارجون ۱۸۷۹ء تک جاری رہا۔