حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 354 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 354

حیات احمد کیا خیال ہے؟ ۳۵۴ جلد اول حصہ سوم پنڈت کھڑک سنگھ نے باوجود عیسائی ہونے کے مجھے یہ کہا تھا۔کہ ہر شخص کا کام نہیں ہے کہ مرزا صاحب سے مباحثہ کرے۔ان کی گرفت بڑی سخت ہوتی ہے۔اور وہ اپنی بات سے ہٹتے نہیں۔میں نے پھر پوچھا کہ مباحثہ تو آریہ مذہب اور اسلام کا تھا۔تم نے آریہ مذہب تو چھوڑ ا مگر عیسائیت کیوں قبول کی۔اس نے کہا یہ سمجھ کی بات ہے۔عیسائیت اسلام کے مقابلہ میں آسانی سے سمجھ میں آتی ہے۔میری غرض اس سے کوئی بحث کرنا نہ تھا بلکہ اس مباحثہ کے متعلق حالات معلوم کرنا تھا اور میں اس مختصر جواب سے حقیقت کو معلوم کر گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ بالا تحریر کی اشاعت کے بعد وہ عرصہ دراز تک زندہ رہا اور اس نے کبھی اس کی تردید نہ کی۔اور یہ اس کی ہزیمت کی تحریری دستاویز ہے۔لالہ شرمیت رائے صاحب میدان مناظرہ میں آکو دے غرض پنڈت کھڑک سنگھ صاحب تو شکست کھا کر بھاگ گئے اور انہوں نے اپنی شکست کا عملی اعتراف عیسائی ہو کر کر دیا۔اور آریہ سماج کے اصول و تعلیم کے خلاف چھ مسلسل لیکچر لکھ کر ان پر گولہ باری شروع کر دی۔ادھر حضرت مرزا صاحب کے مضامین کا سلسلہ برابر سفیر ہند اور ہندو باندھو وغیرہ میں آریہ سماج کے خلاف نکل رہا تھا۔اور انعامی اشتہارات شائع ہو رہے تھے۔اور آریہ سماج کے کیمپ میں ایک کھلبلی مچی ہوئی تھی۔وہ مضامین بدستور لا جواب پڑے ہوئے تھے۔جیسا کہ پنڈت شونرائن صاحب اگنی ہوتری فیصلہ دے چکے تھے۔پنڈت دیانند صاحب اپنے مرکزی اعتقاد روحوں کے بے انت ہونے سے انکار کر چکے تھے۔اور بالمواجہ بحث کی دعوت دے کر خاموش ہو گئے۔جب حضرت مرزا صاحب نے ان کے بالمواجہ مباحثہ کی دعوت کو منظور کر لیا۔اور لاہور آریہ سماج کے سیکرٹری لالہ جیون داس صاحب نے بذریعہ اعلان دنیا کو بتا دیا کہ وہ پنڈت