حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 353 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 353

حیات احمد ۳۵۳ جلد اول حصہ سوم خالی مت پھیر اور ہر ایک جاندار بھوکے پیاسے پر رحم کر۔پنڈت کھڑک سنگھ اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دے سکا۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔اس نے اپنی ہزیمت کا عملی اعتراف و یدک دھرم کو چھوڑ کر کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شحنہ حق میں نہایت ہی مختصر الفاظ میں خود بھی اس کا ذکر کیا ہے۔فرماتے ہیں۔اس وقت مجھے ایک اور پنڈت صاحب بھی یاد آگئے جن کا نام کھڑک سنگھ ہے۔یہ صاحب ویدوں کی حمایت میں بحث کرنے کے لئے قادیان میں آئے اور قادیان کے آریوں نے بہت شور مچایا کہ ہمارا پنڈت ایسا عالم فاضل ہے کہ چاروں ویدا سے کنٹھ ہیں۔پھر جب بحث شروع ہوئی تو پنڈت صاحب کا ایسا بُرا حال ہوا کہ نا گفتہ بہ اور سب تعریفیں وید کی بھول گئے۔دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام تو قبول نہ کیا مگر قادیان سے جاتے ہی وید کو سلام کر کے اصطباغ لیا اور اپنے لیکچر میں جو ریاض ہند اور چشمہ نور امرتسر میں انہوں نے چھپوایا ہے صاف یہ عبارت لکھی کہ وید علوم الہی اور راستی سے بے نصیب ہیں اس لئے وہ خدا کا کلام نہیں ہو سکتے اور آریوں کا ویدوں کے علم اور فلسفہ اور قدامت کے بارے میں ایک باطل خیال ہے۔اس نازک بنیاد پر وہ حال اور ابد کے لئے اپنی امیدوں کی عمارت اٹھاتے ہیں اور اس ٹمٹماتی ہوئی روشنی کے ساتھ زندگی اور موت پر خوش ہیں۔“ (محبه حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۶۰) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریر پنڈت کھڑک سنگھ کی زندگی میں شائع ہوئی۔اور آریوں نے ہمیشہ اسے پڑھا۔مگر نہ تو قادیان کے کسی آریہ کو اور نہ خود پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کو حوصلہ ہوا کہ اس کی تردید کریں۔میں نے خود پنڈت کھڑک سنگھ صاحب سے بمقام بٹالہ ملاقات کی تھی۔اور ان سے پوچھا تھا کہ آپ نے جو مباحثہ کیا۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق استدلال کے متعلق تمہارا