حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 349 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 349

حیات احمد ۳۴۹ جلد اول حصہ سوم رہے۔اور کچھ غیرت و شرم اُس کو نہ آوے تو معلوم کرنا چاہیئے کہ بڑا بے حیا اور بے شرم ہے کہ ایسی پاک اور مقدس کتاب کی ہتک کرتا ہے کہ جس کی ثانی حکمت اور فلسفہ میں اور کوئی کتاب نہیں۔تین ماہ سے بنام اس کے بوعدہ انعام پانسو روپیہ ہمارا مضمون چھپ رہا ہے۔اس نے کون سے دلائل پیش کئے۔شرم چه کنی است که پیش مردان بیاید۔اور پہلی نشانی جو ہم نے عنوان اس مضمون میں لکھی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ فرقان مجید اپنے احکام میں سب کتابوں سے کامل تر ہے۔اور ہماری موجودہ حالت کے عین مطابق ہے۔اور جس قدر فرقان مجید میں احکام ہدایت حسب حالت موجودہ دنیا کے مندرج ہیں کسی اور کتاب میں ہرگز نہیں۔اگر کھڑک سنگھ وید میں یا توریت انجیل میں یہ سب احکام نکال دے۔تو اس پر بھی ہم پانسو روپیہ دینے کی شرط کرتے ہیں۔اگر کچھ شرم ہو گی تو ضرور بمقابلہ اس کے وید سے بحوالہ پستہ و نشان لکھے گا۔ورنہ خود یہ لڑکے جن کو بہکا رہا ہے سمجھ جاویں گے کہ جھوٹا ہے۔کون منصف اس عذر کو سن سکتا ہے کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ تمہارا دید ناقص ہے۔تم یہ احکام وید سے نکال دو۔اگر ناقص نہیں تم یہ جواب دیتے ہو ہمیں فرصت نہیں۔وید یہاں موجود نہیں۔بھلا یہ کیا جواب ہے؟ اس جواب سے تو تم جھوٹے ٹھہرتے ہو۔جس حالت میں ہم پانسو روپیہ نقد دینا کرتے ہیں۔ٹو نمبو لکھ دیتے ہیں۔رجسٹری کرا دیتے ہیں۔تو پھر اگر تمہارا دید بھی کچھ چیز ہے تو کس دن کے واسطے رکھا ہوا ہے۔دس میں روز کی ہم سے مہلت لے لو۔پنڈت دیا نند کو اپنا مددگار بنا لو ہم کو وہ احکام نکال دو جو ہم نیچے فرقان مجید سے نکال کر لکھیں گے۔یا یہ اقرار کر دو کہ یہ احکام ہمارے نزدیک ناجائز ہیں تب پھر ان کے ناجائز ہونے کا نمبر واروید سے حوالہ دو۔غرض تم ہمارے ہاتھ سے کہاں بھاگ سکتے ہو۔اور یہ جو تم محض شرارت سے بارادہ تو ہین حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بدزبانی کرتے ہو۔یہ محض تمہاری بد اصلی ہے۔اپنے پرچہ میں بھی تم نے ایسی اہانت سب پیغمبروں کی نسبت لکھی ہے۔ہم کو خدا نے یہ شرف بخشا ہے کہ ہم سب پیغمبروں کی تعظیم کرتے ہیں