حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 345 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 345

حیات احمد ۳۴۵ جلد اول حصہ سوم ہاں آنا جانا ترک کر دیا۔اور ان کے گھر کا کھانا پینا چھوڑ دیا۔محض اس لئے کہ ایک مرتبہ اُن کے منہ سے آنحضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بے ادبی کا کلمہ نکل گیا تھا۔باوجود اس احترام کے جو آپ بزرگوں کا کرتے تھے۔اس بات کا ایسا اثر آپ کی طبیعت پر تھا کہ آپ کا چہرہ غصہ سے تمتما اٹھا اور آپ کا اپنا کھانا پینا بھی اس سے ترک ہو گیا۔ڈاکٹر پادری وایٹ بر سخٹ کی شہادت ۱۹۲۵ء کی دوسری ششماہی میں جب میں لنڈن گیا تو میں ڈاکٹر پادری وایٹ بریخٹ صاحب ( جو آجکل وہاں ڈاکٹر سٹانٹن کہلاتے ہیں) سے ملا۔پادری صاحب بٹالہ میں مشنری رہے ہیں۔اور حضرت صاحب سے بھی ان کی بعض ملاقاتیں ہوئی ہیں۔پادری فتح مسیح صاحب سے بٹالہ میں ایک مباحثہ الہام کے متعلق تھا۔اس میں بھی ان کا دخل تھا۔غرض سلسلہ کی تاریخ میں ان کا کچھ تعلق ہے۔اس سلسلہ میں ان سے مجھے ملنے کی خواہش تھی۔اور میں ان سے جا کر ملا۔اثنائے گفتگو میں میرے بعض سوالات کے جواب میں جو حضرت کی سیرت یا بعض واقعات کے متعلق تھے۔ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ : میں نے ایک بات مرزا صاحب میں یہ دیکھی جو مجھے پسند نہیں تھی۔کہ وہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا جاتا تو ناراض ہو جاتے تھے۔اور ان کا چہرہ متغیر ہو جاتا تھا۔میں نے پادری صاحب کو کہا کہ جو بات آپ کو ناپسند ہے۔میں اسی پر قربان ہوں۔کیونکہ اس سے حضرت مرزا صاحب کی زندگی کے ایک پہلو پر ایسی روشنی پڑتی ہے کہ وہ آپ کی ایمانی غیرت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم سے محبت ہی نہیں عشق اور فدائیت کو نمایاں کر دیتی ہے۔آپ کے نزدیک شاید یہ عیب ہو۔مگر میں تو اسے اعلیٰ درجہ کا اخلاق یقین کرتا ہوں۔اور آپ کے منہ سے سن کر حضرت مرزا صاحب کی محبت اور آپ کے ساتھ عقیدت میں بہت بڑی ترقی محسوس کرتا ہوں۔غرض آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت اور عشق تھا۔آپ یہ کبھی