حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 342 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 342

حیات احمد ۳۴۲ جلد اول حصہ سوم کے دلائل و براہین اور آپ کی عملی زندگی اور تاثیرات کی قوت ایسی زبردست تھی کہ اس علاقہ میں ایک معز ز سکھ زمیندار خاندان کو داخل اسلام کر لیا۔اور نمود و نمائش سے اس قدر نفرت تھی کہ پسند نہ فرمایا کہ خود اس کے قبول اسلام کا اعلان کریں۔مگر خدا کی قدرت اور اس کے فضل کو دیکھو کہ واقعات کی حقیقت کو مخفی نہیں رہنے دیا خود صاحبزادہ ظہور الحسن صاحب نے اپنی تحریر میں اس حقیقت کو آشکارا کر دیا کہ یہ شخص صرف حضرت مرزا صاحب کی صحبت سے داخلِ اسلام ہوا ہے۔اور آپ کے مقام کا بھی اظہار کر دیا کہ مجھ سے ہزار درجہ افضل ہیں۔پنڈت کھڑک سنگھ صاحب سے مباحثہ سردار سنت سنگھ صاحب مسلمان ہو کر عبدالرحمن بن چکے تھے اور ان کی بیوی بھی اب اُمت مسلمہ میں داخل تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لالہ ملا وامل اور لالہ شرمیت رائے صاحب بھی آیا کرتے تھے اور ان سے اسلام کی خوبیوں اور حقائق و معارف قرآنیہ پر تذکرے برنگ تبلیغ ہوا کرتے تھے۔چنانچہ میں پہلی جلد میں لالہ ملاوامل صاحب کی ابتدائی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھ آیا ہوں کہ پہلی ہی ملاقات میں آپ نے ان کو تبلیغ کی تھی۔اور آپ کی مجلس میں علی العموم یہی تذکرہ ہوتا تھا کہ یہ تبلیغی تذکرے اور تبادلہ خیالات کے سلسلے اتنے وسیع ہوئے کہ قادیان کے ایک چوہارے سے نکل کر اخبارات تک جا پہنچے۔اور ہندو باندھو ( برادر ہند ) و دیا پر کا شک۔آفتاب پنجاب۔سفیر ہند اور وکیل ہندوستان کے کالموں میں بحث کا میدان گرم ہو گیا۔اور سوامی دیانند صاحب سے براہِ راست خطاب کی ریت جا پہنچی اور لاہور کے مشہور مذہبی لیڈر پنڈت شونرائن اگنی ہوتری (حال بانی دیو سماج ) نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں کامیابی کا فیصلہ دے دیا۔یہ سلسلہ الگ جاری تھا کہ اسی اثناء میں قادیان کے ہندوؤں نے پنڈت کھڑک سنگھ کو قادیان بلا لیا۔یہ پنڈت صاحب اوردو کی کے رہنے والے تھے اور آریہ سماج کے پُر جوش اور سرگرم ممبر تھے۔ان کو قدرتی طور پر خیال تھا کہ ایک گاؤں کا رہنے والا جہاں نہ علمی ترقی کے اسباب